100 افراد کے خلاف مقدمات اور 20 گرفتاریاں ، پاسپورٹ تصدیق میں رکاوٹیں ممکن
حیدرآباد ۔ 24 ۔ جون : ( سیاست نیوز ) : جدید دور میں سوشیل میڈیا جہاں رابطوں کا ذریعہ ہے وہیں اس کا غلط استعمال نوجوانوں کے مستقبل کے لیے ایک بڑا خطرہ بنتا جارہا ہے ۔ حالیہ واقعات اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمس پر کی گئی ایک غلطی نہ صرف آپ کو جیل کے سلاخوں کے پیچھے ڈھکیل سکتی ہے بلکہ آپ کے کیرئیر کو بھی ہمیشہ کے لیے ختم کرسکتی ہے ۔ شہر حیدرآباد کے ایک تعلیم یافتہ نوجوان نے فیس بک پر ایک سینئیر پولیس آفیسر کے خلاف نامناسب پوسٹ کی ۔ مقدمہ درج ہوتے ہی کمپنی نے اسے فوری طور پر ملازمت سے نکال دیا ۔ ضلع نلگنڈہ میں ایک نوجوان نے فلمی اداکارہ کی تصویر کو Morphing کر کے فحش تبصرہ کیا ۔ جس پر پولیس نے اسے گرفتار کرلیا ۔ سوشیل میڈیا پر ذہنی اذیت پہونچانے والے تقریبا 20 افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے ۔ جب کہ مزید 25 افراد کی فہرست تیار کی گئی ہے ۔ ڈی سی پی کرائم اروند بابو نے واضح کیا ہے کہ پولیس اب سائبر پٹرولنگ کے ذریعہ سوشیل میڈیا پر کڑی نظر رکھ رہی ہے ۔ اگر متاثرہ فریق شکایت نہ بھی کرے تب بھی فحش اور توہین آمیز پوسٹس پر پولیس از خود (suomotu) مقدمات درج کررہی ہے ۔ گزشتہ 4 ماہ کے دوران شہر میں تقریبا 100 افراد کے خلاف سوشیل میڈیا قوانین کی خلاف ورزی پر مقدمات درج کئے جاچکے ہیں ۔ پولیس ریکارڈ میں نام آنے سے نہ صرف موجودہ ملازمت خطرے میں پڑتی ہے بلکہ مستقبل میں پاسپورٹ کی تصدیق اور بیرون ممالک سفر میں بھی رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں۔ واٹس ایپ گروپس یا فیس بک پر کسی کی ذاتی زندگی ، مذہب یا عہدے کے خلاف نازیبا کمنٹس سے گریز کریں ۔ ایڈٹ کی ہوئی ویڈیوز یا تصاویر کو شیئر کرنا بھی قانونی جرم ہے ۔ اظہار آزادی کے نام پر کسی کی عزتِ نفس کو مجروح نہ کریں ۔ کسی بھی سائبر شکایت یا آن لائن ہراسانی کی صورت میں ان نمبروں 9490616555 اور نیشنل ہیلپ لائن نمبر 1930 پر رابطہ کریں ۔۔ 2/m/b