نئی دہلی، 21جولائی (یواین آئی) سماجی کارکن اور تعلیمی اصلاحات کی مہم چلانے والے سونم وانگچک منگل کو وردھمان مہاویر میڈیکل کالج اور صفدر جنگ اسپتال میں ڈاکٹروں کی سخت نگرانی میں رہے۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ ان کے بنیادی صحت کے پیرامیٹرز (معیار) مستحکم ہیں، لیکن خبردار کیا کہ غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال جاری رکھنے کے باعث کئی طبی علامات پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔ ہاسپٹل کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین ہیلتھ بلیٹن کے مطابق، وانگچک کا بلڈ شوگر لیول نارمل سے نیچے بنا ہوا ہے۔
سونم وانگچک کی حمایت میں احتجاج پر ممبئی پولیس کی کارروائی
ممبئی ، 21 جولائی (یو این آئی) سماجی کارکن سونم وانگچک کی حمایت میں ممبئی کے مختلف علاقوں میں کیے گئے احتجاج کے بعد ممبئی پولیس نے سخت کارروائی کرتے ہوئے آٹھ الگ الگ مقدمات درج کیے ہیں اور 900 سے زائد افراد کو نامزد کیا ہے ۔ پولیس کے مطابق مظاہرین پر قانون و نظم کی خلاف ورزی، غیر قانونی اجتماع اور بغیر اجازت احتجاج کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق شہر کے مختلف پولیس اسٹیشنوں میں امن عامہ میں خلل ڈالنے اور غیر مجاز احتجاج کے سلسلے میں مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ سب سے زیادہ مقدمہ شیواجی پارک پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا، جہاں ایف آئی آر میں 600 سے زائد افراد کو نامزد کیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ ماہم پولیس اسٹیشن میں 100سے زائد افراد، دادر میں 70سے زیادہ، سائن میں 40سے زائد، وڈالا ٹی ٹی میں 25سے زیادہ، ورلی میں 21، کالا چوکھی میں 20سے زائد اور بھوئی واڑا پولیس اسٹیشن میں بھی 20سے زیادہ افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہیکہ احتجاجی مقامات سے حاصل کیے گئے شواہد کی بنیاد پر تحقیقات جاری ہیں اور مزید قانونی کارروائی بھی کی جائے گی۔ دوسری جانب دادر کے چیتیہ بھومی میں سونم وانگچک کی حمایت میں احتجاج کرنے والے طلبہ کو بھی پولیس نے نوٹس جاری کیے ہیں۔ ان طلبہ کے خلاف غیرمجاز احتجاج کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا ہے اور انہیں تحقیقات میں شامل ہونے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ پیر کو احتجاج کے دوران حراست میں لیے گئے طلبہ کو ہدایت کی گئی ہیکہ وہ 27جولائی کو صبح 10بجے شیواجی پارک پولیس اسٹیشن میں تفتیشی افسر کے سامنے حاضر ہوں۔ یہ احتجاج ایسے وقت کیا گیا جب متعلقہ علاقے میں امتناعی احکامات نافذ تھے اور احتجاج کیلئے پیشگی اجازت بھی حاصل نہیں کی گئی تھی۔ اس سلسلے میں ماہم پولیس اسٹیشن میں بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعات 189(2)، 189(3)، 189(5) اور 223کے تحت، نیز مہاراشٹرا پولیس ایکٹ کی دفعات 37اور 135کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
پولیس کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اگر متعلقہ طلبہ مقررہ تاریخ پر تفتیشی افسر کے سامنے پیش نہیں ہوئے تو یہ تصور کیا جائے گا کہ انہیں اپنے دفاع میں کچھ کہنا نہیں ہے ، جس کے بعد قانون کے مطابق مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ واضح رہے کہ طلبہ نے چیتیہ بھومی میں جمع ہو کر سونم وانگچک کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا تھا۔ وانگچک لداخ کو آئین کے چھٹے شیڈول کے تحت آئینی تحفظ فراہم کرنے اور مرکز کے زیر انتظام علاقے میں ماحولیات کے تحفظ کیلئے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے ملک گیر مہم چلا رہے ہیں۔ احتجاج کے دوران پولیس نے مظاہرین کو حراست میں لے کر شیواجی پارک پولیس اسٹیشن منتقل کیا تھا، جہاں قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔ پولیس نے بتایا کہ دونوں معاملات کی مزید تفتیش جاری ہے۔