سونم وانگ چوک کو جنتر منتر سے دواخانہ منتقل کردیا گیا

,

   

صبح کے وقت پولیس کی کارروائی ۔ بگڑتی صحت و عدالتی ہدایت پر اقدام ۔ پولیس کا بیان

نئی دہلی، 18 جولائی (یو این آئی) نیٹ پیپر لیک معاملے پر جنتر منتر پر 20 روز کی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال مکمل کرنے کے بعد سماجی کارکن سونم وانگ چوک کو آج علی الصبح دہلی پولیس نے اسپتال منتقل کر دیا۔حکام نے بتایا کہ یہ قدم ان کی گرتی صحت اور دہلی ہائی کورٹ کی ہدایات کے مطابق اٹھایا گیا ہے ۔ پولیس اہلکار صبح احتجاجی مقام پر پہنچے اور 59 سالہ سماجی کارکن کو طبی مرکز منتقل کر دیا۔ اس کارروائی کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی حامیوں کا احتجاج اور نعرہ بازی شروع ہو گئی، جو وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبہ پر تحریک کی قیادت کر رہی ہے ۔ ایک بیان میں دہلی پولیس نے کہا کہ یہ فیصلہ طبی مشورہ اور عدالت کی ہدایات کے بعد کیا گیا ۔ بیان میں کہا گیا کہ سونم وانگ چوک کو ضروری طبی دیکھ بھال کیلئے اسپتال منتقل کیا گیا اور یہ کارروائی ان کی گرتی ہوئی صحت کی وجہ سے کی گئی ہے ۔ پولیس نے مظاہرین سے جنتر منتر کو خالی کرنے کی بھی اپیل کی۔ بیان میں کہا گیا کہ ہائی کورٹ احکام کی تعمیل میں مظاہرین نے رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کی، جس سے ہلکی افراتفری پیدا ہوئی۔ جنرل فزیشن و میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ستیش لامبا کے ہیلتھ اپڈیٹ کے مطابق، وانگ چوک کا وزن تقریباً 56.6 کلوگرام رہ گیا تھا۔ ان کے وزن میں 9 نو کلوگرام سے زیادہ کی کمی ہوئی ہے ۔ بھوک ہڑتال جاری رہنے کی صورت میں ممکنہ پیچیدگیوں سے خبردار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگلا مرحلہ تشویشناک ہو سکتا ہے ۔ اعضاء متاثر ہو سکتے ہیں۔ ہم ان پر 24 گھنٹے نظر رکھے ہوئے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ یہ اس مرحلے تک نہیں پہنچے گا۔ بروقت مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے ڈاکٹر لامبا نے کہا کہ میں حکومت سے جلد مداخلت کی اپیل کرتا ہوں کیونکہ وہ ایک قیمتی ہیرا ہیں اور ہم انہیں کھونا نہیں چاہتے ۔ اگر اعضاء متاثر ہوتے ہیں تو یہ ہمارے لیے واقعی تشویشناک ہو سکتا ہے ۔ جیسے ہی وانگ چوک کی صحت بگڑی، گزشتہ دو دنوں میں کئی اپوزیشن قائدین نے جنتر منتر پر ان سے ملاقات کی۔ کانگریس لیڈر پون کھیڑا، سماج وادی پارٹی کی ایم پی ڈمپل یادو اور عام آدمی پارٹی سربراہ اروند کیجریوال نے ان کی مہم کی حمایت کا اظہار کرکے طبی حالت کے پیش نظر بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی تھی ۔