دونوں تلگو ریاستو ں میں کانگریس کوفائدہ پہنچانے کیلئے سونیا گاندھی سے حلقہ لوک سبھا کھمم سے مقابلہ کی اپیل
حیدرآباد ۔ 8جنوری ( سیاست نیوز) تلنگانہ پردیش کانگریس پارٹی لوک سبھا انتخابات پر اپنی ساری توجہ مرکوز کردی ہے ۔ اگر سونیا گاندھی حلقہ لوک سبھا کھمم سے مقابلہ کرنے سے اتفاق کرتی ہے تو ان کے انتخاب کو بلامقابلہ بنانے کی بھی تیاری کررہی ہے ۔ اسمبلی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والی کانگریس پارٹی تلنگانہ میں کم از کم 12اور زیادہ سے زیادہ 15 لوک سبھا حلقوں پر کامیابی حاصل کرنے کا نشانہ مختص کرتے ہوئے کام کررہی ہے ۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نظم و نسق پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے ساتھ عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل میں مصروف رہتے ہوئے کانگریس کو تنظیمی سطح پر مضبوط کرنے پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں ۔ لوک سبھا انتخابات کی تیاریاں کررہے ہیں ۔ کانگریس پولیٹیکل آفیسرس کمیٹی اور تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے عاملہ اجلاسو ں میں علحدہ علحدہ قراردادیں منظور کرتے ہوئے سونیا گاندھی سے تلنگانہ کے ایک حلقہ لوک سبھا سے مقابلہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا اور پارٹی کے فیصلے سے کانگریس ہائی کمان کو بھی واقف کرایا گیا ہے ۔ حلقہ لوک سبھا کھمم سے مقابلہ کرنے کی سونیا گاندھی سے اپیل کی گئی ہے ۔ پارٹی کے ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ تلنگانہ کانگریس کی اپیل پر کانگریس ہائی کمان اور سونیا گاندھی ہمدردانہغور کررہی ہے جس کی اطلاع ملتے ہی کانگریس نے اپنی تیاریوں میں شدت اختیار کردی ہے ۔ سونیا گاندھی نے 10سال قبل وعدے کے مطابق علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دیا تھا جس کے پیش نظر کانگریس پارٹی کھمم سے سونیا گاندھی کے مقابلہ کرنے کی صورت میں ان کے انتخاب کو بلامقابلہ بنانے کی بھی منصوبہ بندی کررہی ہے ۔ بی آر ایس ۔ بی جے پی کمیونسٹ جماعتوں کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے انہیں راضی کرانے کی کوشش کرنے کا بھی سنجیدگی سے جائزہ لے رہی ہے ۔ اس کی ذمہ داری ڈپٹی چیف منسٹر ملو بٹی وکرامارک کو سونپنے کے امکانات ہیں ۔ متحدہ ضلع کھمم کے 10 اسمبلی حلقوں میں سی پی آئی اتحاد کے ساتھ تمام حلقوں پر کانگریس نے کامیابی حاصل کی ہے ۔ سونیا گاندھی کو کھمم سے مقابلہ کرانے پر تلنگانہ اور آندھراپردیش کیلئے بھی ماحول کانگریس کیلئے سازگار ہونے کا اندازہ لگایا جارہا ہے ۔ دونوں ریاستو ں سے کانگریس کے زیادہ سے زیادہ ارکان پارلیمنٹ کو کامیاب بنانے کی بھی تیاری کی جارہی ہے ۔ کھمم لوک سبھا کے انتخاب کو بلامقابلہ بنانے کیلئے تمام سیاسی جماعتوں سے بات چیت کی جارہی ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مثبت ردعمل حاصل نہ ہونے کی صورت میں سونیا گاندھی کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنانے کی بھی منصوبہ بندی تیار کی جارہی ہے ۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے ریاست کے 17لوک سبھا حلقوں کیلئے وزراء کو انچارج بنا دیا ہے ۔ اس کے علاوہ خود بھی لوک سبھا انتخابات کی تیاریوں کا آغاز کرتے ہوئے مختلف لوک سبھا حلقوں میں شامل اسمبلی حلقوں کے کانگریس کے ارکان اسمبلی مقابلہ کرتے ہوئے شکست سے دوچار ہونے والے پارٹی امیدواروں کا متحدہ اور علحدہ علحدہ اجلاس طلب کرتے ہوئے انہیں پارٹی امیدواروں کو کامیاب بنانے کی ذمہ داریاں سونپی جارہی ہے ۔ 2