سوٹ کیس میں بچوں کی لاشیں، کوریا میں خاتون گرفتار

   

ویلنگٹن/ سیول : نیوزی لینڈ کی پولیس نے جمعرات کو بتایا کہ جنوبی کوریا میں ایک ایسی خاتون کو گرفتار کیا گیا ہے ،جس پر دو بچوں کو قتل کرنے کا الزام ہے ۔ ان بچوں کی لاشیں گزشتہ ماہ سوٹ کیسوں سے ملی تھیں۔ نیوزی لینڈ نے خاتون کی حوالگی کے لیے درخواست دے دی ہے ۔ یہ ایک ایسا کیس تھا جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا جب بچوں کی لاشیں ایک نامعلوم خاندان نے دریافت کیں جس نے آکلینڈ کے ایک اسٹوریج یونٹ سے یہ سوٹ کیس خریدے تھے ۔ لاشیں کئی سالوں تک ان سوٹ کیسوں میں رکھی گئی تھیں ۔ پولیس نے بتایا کہ مقتول بچوں کی عمریں پانچ سے دس سال کے درمیان تھیں۔پولیس نے بتایا کہ وہ اس خاتون کو تلاش کرنے کے لیے گزشتہ تین ہفتوں سے جنوبی کوریا کے حکام کے رابطے میں تھے اور انھیں یقین تھا کہ وہ جنوبی کوریا میں ہے ۔بی بی سی کے مطابق پولیس نے کمسن بچوں کی شناخت کے بعد خاتون کی تلاش شروع کی تھی، جن کے نام ظاہر نہیں کیے گئے ۔ جاسوس انسپکٹر توفیلاؤ فامانویا وائلوا نے کہا کہ اس خاتون کو جنوبی کوریا کی پولیس نے جمعرات کی صبح گرفتار کیا تھا اور نیوزی لینڈ کی پولیس اس کی ضمانت مسترد کرنے اور اس کی حوالگی کے لیے درخواست دے گی۔ انہوں نے کہا کہ تلاشی کی اس مہم میں پولیس کو عوام کا بھرپور تعاون حاصل رہا۔ مقامی میڈیا کے مطابق مرنے والے بچوں سے مشتبہ خاتون کے تعلقات تھے ۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق جاں بحق ہونے والے بچوں کے اہل خانہ کچھ برسوں سے آکلینڈ میں مقیم تھے اور بچوں کی موت سے قبل ان کے والد کا انتقال ہوگیا تھا۔پولیس نے بتایا کہ لاشوں کا سراغ لگانے والے خاندان نے اگست کے اوائل میں یہ سوٹ کیس ایک اسٹوریج یونٹ سے خریدے تھے ۔