سوپر سائیکلون ہندوستان کیلئے خطرناک ہوسکتے ہیں ، رپورٹ میں انکشاف

   

لندن:موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے، سوپر سائیکلون کی سب سے شدید شکل، مستقبل میں ہندوستان کے لیے بہت مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ بات برطانیہ کی برسٹل یونیورسٹی کے محققین نے اپنی تحقیق میں کہی ہے۔ محققین نے 2020 کے سوپر سائیکلون امفان کی تحقیقات کی، جس نے جنوبی ایشیا میں دستک دی اور سب سے زیادہ تباہی مچائی۔ ساتھ ہی انہوں نے گلوبل وارمنگ کی وجہ سے سطح سمندر میں اضافہ سمیت مختلف حالات کو دیکھتے ہوئے مستقبل میں سوپر سائیکلون کے اثرات کی پیش گوئی کی ہے۔کلائمیٹ ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی نامی جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اگر گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج موجودہ شرح سے ہوتا رہا تو ہندوستان کے لوگوں کو 2020 کے مقابلے میں ڈھائی گنا زیادہ سیلاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یونیورسٹی آف برسٹل میں کلائمیٹ سائنس کے پروفیسر اور اس تحقیق کے سرکردہ مصنف ڈین مچل نے کہا کہ جنوبی ایشیا آب و ہوا کے حوالے سے حساس ترین خطوں میں سے ایک ہے۔ یہاں پر سوپر سائیکلون کی وجہ سے لاکھوں لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور شدید مالی نقصان بھی ہوتا ہے۔