خرطوم : اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین فلیپو گرانڈی نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ سوڈان کی شمالی ریاست دارفور میں بے گھر ہونے والے کیمپوں اور اطراف میں پرتشدد جھڑپوں میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔گرانڈی نے ٹویٹر پر کہا خواتین اور لڑکیوں کے خلاف جنسی تشدد کی ہولناک اطلاعات ہیں۔ یہ صورت حال اس وقت تک بدتر ہوتی جائے گی جب تک کہ تنازع کے فریق سوڈان کی تباہ کن لڑائی کو ختم کرنے پر متفق نہیں ہوجاتے۔سوڈان کی ’’تحریک انصاف و مساوات” میں اطلاعات کے ڈپٹی سیکرٹری حسن ابراہیم فضل نے بدھ کو کہا تھا کہ مسلح ملیشیا نے مغربی دارفور کے گورنر خمیس ابکر کو ہلاک کر دیا۔اسی تناظر میں اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسیف) کے نمائندے مندیپ اوبرائن نے دار فور میں بچوں پر مسلسل تشدد کے واقعات پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے ٹویٹر پر کہا کہ بحران کے آغاز کے دو ماہ بعد سوڈان کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ یونیسیف اور اس کے شراکت داروں کو ایسے تمام علاقوں تک محفوظ اور غیر محدود رسائی کی ضرورت ہے جہاں بچوں کو ان کی فوری ضرورت ہے۔سوڈانی فوج نے جمعرات کو صبح کے وقت اعلان کیا کہ ریپڈ سپورٹ فورسز نے مغربی دارفور کے گورنر خمیس عبداللہ ابکر کو اغوا کر لیا اور پھر اسے قتل کر دیا۔ دارفور کے گورنر کا قتل ایک ’سفاکانہ فعل‘ ہے۔ اس سے آر ایس ایف کے جرائم کے ریکارڈ میں بدترین اضافہ ہوا ہے۔