سپریم کورٹ پورے ملک میں آوارہ کتوں کے مسئلے کی جانچ کریگا

   

11 اگست کے حکم میں ترمیم، دائرہ کار میں توسیع، ویکسینیشن کے بعد ہی آوارہ کتوں کو چھوڑا جائے

نئی دہلی، 22 اگست (یو این آئی) سپریم کورٹ نے اپنے 11 اگست کے حکم میں ترمیم کرتے ہوئے جمعہ کو تحقیقات کے دائرے کو بڑھا دیا۔ عدالت نے کہا کہ پورے ملک میں آوارہ کتوں کے مسئلے پر ایک آل انڈیا نیشنل پالیسی تیار کرنے کے لیے اس نے اپنی کارروائی کا دائرہ وسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ عدالت نے کہا کہ قومی راجدھانی خطہ دہلی سے پکڑے گئے آوارہ کتوں کو صرف ویکسینیشن کے بعد ہی چھوڑا جا سکتا ہے ۔ جسٹس وکرم ناتھ، جسٹس سندیپ مہتا اور جسٹس این وی انجاریا کی بنچ نے یہ حکم جاری کیا۔ بنچ نے کہا کہ ریبیز سے متاثر اور جارحانہ رویے والے کتوں کو چھوڑ کر باقی تمام کتوں کو واپس منتقل کیا جا سکتا ہے ۔ عدالت نے 11 اگست 2025 کو دہلی۔این سی آر کی جگہوں سے آوارہ کتوں کو پکڑنے کے بعد انہیں چھوڑنے کے خلاف ایک از خود نوٹس کیس میں دو ججوں کی بنچ کے جاری کردہ حکم کو عارضی طور پر معطل رکھنے کا فیصلہ کیا۔ بنچ نے میونسپل کارپوریشن کے افسران کو ہر وارڈ میں آوارہ کتوں کے لیے کھانے کی جگہ بنانے یا ان کی نشاندہی کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے کہا کہ دوسری جگہوں پر کھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی کیونکہ بے ترتیب کھانا کھلانے سے عام لوگوں کو پریشانیاں ہوتی ہیں۔ عدالت نے خلاف ورزیوں کے خلاف شکایت درج کرنے کے لیے ہیلپ لائن قائم کرنے کا بھی حکم دیا۔ بنچ نے اعلان کیا کہ کوئی بھی فرد یا تنظیم حکام کے فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ نہیں ڈالے گا۔ سہولیات کے قیام کے لیے ہر غیر سرکاری تنظیم کو 25 ہزار روپے ادا کیے جائیں گے ۔ عدالت نے واضح کیا کہ اے بی سی قواعد کے مطابق کسی بھی فرد یا تنظیم کو میونسپل کارپوریشن کے افسران کو کتوں کو اٹھانے سے نہیں روکنا چاہیے ۔ عدالت نے کہا کہ ہم کارروائی کے دائرے کو بڑھا کر تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں، مویش پروری کا محکمہ اور میونسپل افسران کو اس میں شامل کرنے کی تجویز رکھتے ہیں۔ عدالت نے اپنی رجسٹری کو ہائی کورٹس میں زیر التوا اسی طرح کے مقدمات کی تفصیلات حاصل کرنے کی ہدایت دی، جنہیں سپریم کورٹ کو منتقل کیا جائے گا۔ بنچ نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو کارروائی میں فریق بنانے کے بعد معاملے کو آٹھ ہفتے بعد دوبارہ سماعت کے لیے فہرست میں شامل کیا۔ عدالت نے 14 اگست کو اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا اور پچھلے حکم کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرنے والے تمام فریقوں کو حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی، جس میں کہا گیا کہ ایک طرف انسانوں کے لئے دقت ہے اور دوسری طرف جانوروں سے محبت کرنے والے ہیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ یہ سارا مسئلہ میونسپل کارپوریشن کی غفلت کی وجہ سے پیدا ہوا ہے ۔ واضح رہے کہ دو ججوں کی بنچ کے پچھلے حکم پر سخت ردعمل اور سڑکوں پر احتجاج کے بعد ملک کے چیف جسٹس بی آر گوَئی نے تین ججوں کی نئی بنچ تشکیل دی تھی۔

آوارہ کتوں پر سپریم کورٹ کی نظرثانی پر راہول گاندھی کا خیرمقدم
نئی دہلی، 22 اگست (یواین آئی) لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما راہول گاندھی نے آج آوارہ کتوں سے متعلق سپریم کورٹ کی نظرثانی شدہ ہدایات کا خیر مقدم کیا اور اسے ایک ‘ترقی پسند قدم’ قرار دیا جو جانوروں کی فلاح و بہبود اور عوامی سلامتی کے خدشات کے درمیان محتاط توازن قائم کرتا ہے ۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں راہول گاندھی نے کہا، ‘میں سپریم کورٹ کی آوارہ کتوں پر نظرثانی شدہ ہدایات کا خیر مقدم کرتا ہوں، کیونکہ یہ جانوروں کی فلاح اور عوامی سلامتی کے درمیان توازن قائم کرنے کی جانب ایک ترقی پسندانہ قدم ہے ۔ یہ طریقہ کار ہمدردی پر مبنی ہے اور سائنسی منطق سے جڑا ہوا ہے ۔ غور طلب ہے کہ سپریم کورٹ نے آج اپنے 11 اگست کے اس سابقہ حکم میں ترمیم کی، جس میں دہلی۔قومی خطہ راجدھانی (این سی آر) میں تمام آوارہ کتوں کو پکڑنے اور انہیں شیلٹرز سے رہا کرنے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ جسٹس وکرم ناتھ، جسٹس سندیپ مہتا اور جسٹس این وی انجاریا پر مشتمل تین رکنی بینچ نے واضح کیا کہ اب آوارہ کتوں کو کیڑے مار دوا دینے ، ویکسی نیشن اور نس بندی کے بعد انہی علاقوں میں واپس چھوڑا جائے گا۔

یوپی : سات مہینوں میں 28لاکھ سے زیادہ لوگوں کو کتوں نے کاٹا
لکھنؤ22اگست(یواین آئی) اترپردیش میں جنوری سے لے کر جولائی کے درمیان 28 لاکھ سے زیادہ لوگ کتوں کے کاٹنے کا شکار بن چکے ہیں۔ محکمہ صحت کے ذرائع نے جمعہ کو بتایا کہ ریاست میں جنوری سے جولائی کے درمیان کتوں نے 28 لاکھ 50 ہزار744 لوگوں کو کاٹا ہے جن میں آوار کتوں نے 22لاکھ 50 ہزار 218 اور پالتو کتوں نے ایک لاکھ 51 ہزار 627 لوگوں پر اپنے دانت گڑائے ہیں۔اس عرصے کے دوران جانوروں کے کاٹنے کے اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ 33 لاکھ 83 ہزار 712 افراد مختلف جانوروں کے کاٹنے کا شکار ہوچکے ہیں جن میں گلی کے کتوں سے لے کر پالتو کتے ، بلی، بندر، گیدڑ، لومڑی اور گھوڑے تک کے کاٹنے کے کیسز شامل ہیں۔