سڑکوں پر طلبہ کی حفاظت کو اوّلین ترجیح دی جائے : کمشنر

   

نظام آباد :23؍ جولائی ( محمد جاوید علی) پولیس کمشنر پی سائی چیتنیا نے بتایا کہ ضلع میں امن و امان، منشیات کے مکمل خاتمے، خواتین و طلبہ کے تحفظ، ٹریفک نظم و ضبط اور این آر آئی شہریوں کے مسائل کے حل کے لیے عوام، تعلیمی اداروں، والدین اور پولیس کو مشترکہ طور پر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے نظام آباد سیکیورٹی کونسل کے اراکین کے ساتھ پولیس کمشنریٹ کے منی کانفرنس ہال میں منعقدہ جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔پولیس کمشنر مسٹر سائی چیتنیا نے ہدایت دی کہ سرکاری و خانگی تعلیمی اداروں اور اسپتالوں میں منشیات کی روک تھام، ٹریفک بیداری اور ایو ٹیجنگ (چھیڑ چھاڑ) کی روک تھام کے لیے خصوصی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں، جو ادارہ جاتی انتظامیہ اور پولیس کے ساتھ قریبی رابطے میں کام کریں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ مشتبہ افراد، منشیات کی خرید و فروخت، چھیڑ چھاڑ یا دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ پولیس افسران یا ڈائل 100 / 1908 پر دیں۔انہوں نے کہا کہ طلبہ کی سڑکوں پر حفاظت کو اولین ترجیح دی جائے۔ بعض نابالغ طلبہ والدین کی اجازت کے بغیر دو پہیہ گاڑیاں چلا رہے ہیں اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ اس رجحان کی روک تھام کے لیے تعلیمی اداروں کے اطراف خصوصی ٹریفک مہم چلانے، نابالغ ڈرائیونگ، بغیر ہیلمٹ سفر، ٹرپل رائیڈنگ اور تیز رفتاری کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایت دی گئی۔ والدین سے بھی اپیل کی گئی کہ وہ نابالغ بچوں کو گاڑیاں نہ دیں۔پی سائی چیتنیا نے کہا کہ ضلع کی ترقی اور شہریوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے ہر شہری اپنی ذمہ داری ادا کرے۔ انہوں نے بتایا کہ این آر آئی شکایات کے فوری ازالے کے لیے پولیس محکمہ خصوصی توجہ دے رہا ہے۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈی سی پی (ایڈمن) این شبھم پرکاش، آرمور، بودھن اور نظام آباد کے اے سی پیز، ٹریفک اے سی پی مستان علی و دیگر شریک تھے۔