سکریٹریٹ مساجد کا کام سُست رفتاری کا شکار، حکومت کے وعدہ پر سوالیہ نشان

,

   

سکریٹریٹ کامپلکس کے ساتھ افتتاح ممکن نہیں، مزید چند ماہ درکار، مندر اور چرچ کا کام بھی نامکمل
حیدرآباد۔یکم؍فروری، ( سیاست نیوز) نئے سکریٹریٹ کی عالیشان عمارت کی تعمیر کا کام اختتامی مراحل میں ہے اور چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے 17 فروری کو افتتاح کا فیصلہ کیا ہے۔ سکریٹریٹ کے علاوہ مسجد، مندر اور چرچ کی تعمیر کا اعلان کیا گیا لیکن سکریٹریٹ کے افتتاح تک عبادت گاہوں کی تعمیر مکمل ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ حکومت نے اعلان کیا تھا کہ سکریٹریٹ کی تعمیر سے قبل مساجد کی تعمیر مکمل کرلی جائے گی لیکن دوسرے اعلانات کی طرح یہ وعدہ بھی محض کاغذی ثابت ہوا۔ حکومت نے عبادت گاہوں کی تعمیر کا کام علحدہ علحدہ کنٹراکٹرس کے حوالے کیا لیکن کاموں کی تکمیل پر توجہ نہیں دی گئی۔ سکریٹریٹ کے احاطہ میں واقع مسجد ہاشمی اور مسجد دفاتر معتمدی کو سکریٹریٹ کی قدیم عمارتوں کے ساتھ منہدم کردیا گیا تھا۔ دونوں مساجد کی اسی مقام پر دوبارہ تعمیر کے مسلمانوں کے مطالبہ کو حکومت نے تسلیم کرتے ہوئے تقریباً 1600 مربع گز اراضی مساجد کیلئے الاٹ کی اور ابتداء میں ایک کروڑ روپئے مختص کئے گئے تاہم بعد میں تعمیری کاموں کیلئے 2.90 کروڑ کا تخمینہ تیار کیا گیا۔ مساجد کی شہادت کے 16 ماہ بعد 25نومبر2021 میں مذہبی اور سیاسی شخصیتوں کی موجودگی میں مسجد کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ چیف منسٹر کے سی آر اور وزیر داخلہ محمد محمود علی نے سکریٹریٹ کی تعمیر تک مساجد کی تعمیر مکمل کرنے کا اسمبلی اوراس کے باہر تیقن دیا لیکن جولائی 2020 میں مساجد کے انہدام کے بعد سے تلنگانہ کے مسلمانوں کو مساجد کی تعمیر کا انتظار ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مساجد کی تعمیر کی سُست رفتاری کی اہم وجہ بجٹ کی بروقت عدم اجرائی ہے۔ اطلاعات کے مطابق مسجد کی چھت کا کام مکمل ہوچکا ہے اور گنبد کی تعمیر کے کام کا آغاز ہوچکا ہے۔ دونوں مساجد کے درمیان امام اور موذن کے کوارٹرس تعمیر کئے جارہے ہیں۔ آر اینڈ بی عہدیداروں کے مطابق مساجد کے درمیانی حصہ میں کوارٹرس کے علاوہ وضو خانے تعمیر کئے جائیں گے۔ کنٹراکٹر نے تعمیر کیلئے 3.75 کروڑ کا تخمینہ تیار کیا ہے جبکہ حکومت نے صرف ایک کروڑ روپئے جاری کئے۔ بتایا جاتا ہے کہ اراضی کے الاٹمنٹ کے اعتبار سے مساجد کے پلان میں بعض تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ سکریٹریٹ کے 17 فروری کو افتتاح کے پیش نظر تعمیری ملبہ کو مسجد، مندر اور چرچ کے علاقوں میں ڈال دیا گیا جس کے نتیجہ میں عبادت گاہوں کی تعمیر کا کام متاثر ہوا ہے۔ آر اینڈ بی کے عہدیداروں کے مطابق عبادت گاہوں کی مکمل تعمیر کیلئے کم از کم 4 ماہ درکار ہوں گے اور سکریٹریٹ کے افتتاح کے موقع پر عبادت گاہوں کی تعمیر کا مکمل ہونا بعید از قیاس ہے۔ مندر کیلئے مینٹ کمپاونڈ کی جانب اراضی مختص کی گئی جہاں ایک خوبصورت مندر کی تعمیر کا کام شروع ہوچکا ہے جبکہ چرچ کا کام ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔ حکومت نے مساجد کو ان کے سابقہ مقامات پر تعمیر کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن مساجد کیلئے الاٹ کردہ اراضی کے بارے میں قطعی طور پر کہا نہیں جاسکتا کہ یہ سابقہ مساجد کی جگہ پر ہیں۔ سکریٹریٹ کے افتتاح کیلئے اگرچہ تاریخ طئے کردی گئی ہے لیکن عہدیداروں کے مطابق صرف عمارت کی چھٹویں منزل کا کام مکمل ہوچکا ہے جو کہ چیف منسٹر کے سی آر کا دفتر رہے گا۔ عمارت کے دیگر حصوں میں تزئین نو کے کام افتتاح کے بعد بھی جاری رہیں گے اور سرکاری دفاتر کی منتقلی میں وقت لگ سکتا ہے۔ر