720 کروڑ روپئے کے مصارف سے عصری تقاضوں سے لیس ہمہ منزلہ نئی عمارت کی تعمیر
ایرپورٹ طرز کا منظر ، 26 لفٹس ، 32 اِسکلیٹرس، فٹ اوور بریجس ، ملٹی لیول پارکنگ کی سہولت
حیدرآباد۔ 14 فروری (سیاست نیوز) حیدرآباد کے تاریخی مقام سکندرآباد ریلوے اسٹیشن کی عمارتوں کو زمین بوس کردیا گیا ہے۔ جدید کاری کے کام کے ایک حصے کے طور پر ریلوے عہدیداروں نے جمعرات کو سکندرآباد ریلوے اسٹیشن کی اہم عمارتوں کو منہدم کردیا جو 1952ء میں تعمیر کی گئی تھیں۔ نتیجتاً یہ عمارت جو اُس وقت کے فنون و ثقافت کو محفوظ رکھنے کیلئے تعمیر کی گئی تھی ، ماضی کی یاد بن کر رہ گئی۔حیدرآباد کا سکندرآباد ریلوے اسٹیشن اصل میں 1870ء کے دہے میں چھٹے نظام میر محبوب علی خان (1869-1911) کے دور میں بنایا گیا تھا۔ نظام کے دور حکومت میں اُس وقت کے نواب نے 1874ء میں سکندرآباد ریلوے اسٹیشن بنوایا۔ یہ 1916ء تک نظام کی ضمانت شدہ اسٹیٹ ریلوے (NGSR) کا مرکزی اسٹیشن ہوا کرتا تھا۔ 1951ء میں NGSR کیقومیائے جانے کے بعد سکندرآباد اسٹیشن انڈین ریلوے کا حصہ بن گیا۔ سکندرآباد ریلوے اسٹیشن کی مرکزی عمارت اس وقت کی حکومت نے 1952 میں تعمیر کی تھی۔ اس کا پورٹیکو نظام فن تعمیر کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک قلعے سے مشابہت رکھتا ہے۔ ایک اور سال میں سکندرآباد ریلوے اسٹیشن کو ہوائی اڈے کی طرح تبدیل کردیا جائے گا۔ 720 کروڑ روپئے کی لاگت سے شروع کیے گئے اسٹیشن کی جدید کاری کا کام تیزی سے جاری ہے۔حکام نے سکندرآباد ریلوے اسٹیشن پر عالمی معیار کی سہولیات اور بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنے کیلئے ایک ماسٹر پلان تیار کیا ہے۔ G+3 ہمہ منزلہ مشہور اسٹیشن عمارتیں شمالی اور جنوبی جانب تعمیر کی جارہی ہیں۔ ان میں ریٹیل اسٹورس، ریسٹورینٹس اور تفریحی سہولتیں شامل ہوں گی۔ اسٹیشن کے دونوں طرف دو مسافر، دو واک ویز، 26 لفٹس ، 32 اِسکلیٹرس، 2چوڑے فٹ برج اور ایک اسکائی وے بنایا جارہا ہے تاکہ مسافروں کو اسٹیشن میں داخل ہونے میں سہولت ہو۔ سکندرآباد ایسٹ میٹرو اسٹیشن کو اسکائی وے سے جوڑا جائے گا۔ شمال کی جانب 5000 کلو واٹ کی صلاحیت کا ایک واک وے اور سولار برقی پلانٹ لگایا جارہا ہے۔ شمال کی جانب تہہ خانے، سیول اِسٹرکچرل اور پلمبنگ کا کام تقریباً 85% مکمل ہوچکا ہے۔ گراؤنڈ فلور پر مسافروں کے پک اَپ اور ڈراپ زون پر کام تیز رفتاری سے جاری ہے۔ سڑکیں، ڈرینج اور دیگر سیول ورک آخری مرحلے میں پہنچ چکے ہیں۔ 400 کاروں کو پارک کرنے کیلئے شمال کی جانب گنیش مندر کے قریب ملٹی لیول پارکنگ تعمیر کی جارہی ہے۔ اسٹیشن کی عمارت میں یوٹیلیٹی شفٹنگ کا کام 50% پورا ہوچکا ہے۔ موجودہ ریزرویشن آفس کے قریب 1.50 لاکھ لیٹر کے زیرزمین پانی کے ٹینک اور ٹرین لائٹنگ ایریا کے قریب 2 لاکھ لیٹر کے پانی کے ٹینک کی تعمیر مکمل کی جاچکی ہے۔2