بامبے ہائی کورٹ نے نچلی عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا‘سی بی آئی ثبوت پیش کرنے سے قاصر
ممبئی۔7؍مئی(ایجنسیز)گجرات کے مشہور سہراب الدین شیخ انکاؤنٹر معاملے میں بامبے ہائی کورٹ نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے 21 پولیس اہلکاروں سمیت تمام 22 ملزمین کو بری کئے جانے کے نچلی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔ عدالت نے واضح لفظوں میں کہا کہ استغاثہ فریق ملزمین کے خلاف مناسب اور ٹھوس ثبوت پیش نہیں کر پایا، اس لئے انہیں قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ الزام لگایا جا رہا ہے کہ ایک مبینہ فرضی انکاؤنٹر میں گجرات پولیس نے نومبر 2005 میں سہراب الدین شیخ اور ان کی اہلیہ کوثر بی کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس معاملے میں کئی سینئر پولیس افسران پر سازش اور انکاؤنٹر کا الزام لگایا گیا تھا جس کے بعد قومی سطح پر بڑا سیاسی اور قانونی تنازعہ کھڑا ہو گیا تھا۔2005.06 کے اس معاملے میں دسمبر 2018 میں خصوصی عدالت نے تمام 22 ملزمین کو بری کردیا تھا۔ ان میں 21 پولیس اہلکار شامل تھے جو گجرات، راجستھان اور آندھراپردیش کے تھے۔ اس معاملے کا تعلق تلسی رام پرجاپتی انکاؤنٹر کیس (2006) سے بھی جوڑا گیا تھا۔ پرجاپتی کو اس کیس کا اہم چشم دید گواہ مانا جاتا تھا۔ الزام تھا کہ اسے بھی بعد میں مبینہ فرضی انکاؤنٹر میں ہلاک کر دیا گیا۔خصوصی عدالت کے فیصلے کو سہراب الدین کے 2 بھائیوں نے اپریل 2019 میں ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ اب اس معاملے میں 7 سال بعد ہائی کورٹ نے فیصلہ سنا دیا ہے۔ ہندوستان میں سب سے زیادہ سرخیوں میں رہنے والے انکاؤنٹر کیسوں میں سے ایک سہراب الدین شیخ کے معاملے نے ایک وقت کافی طول پکڑ لیا تھا۔ یہ انکاؤنٹر اس دوران ہوا تھا جب نریندر مودی گجرات کے چیف منسٹرتھے۔ اس وقت مودی حکومت پر بھی سوال اٹھے تھے۔ سپریم کورٹ نے 2010 میں اس معاملے کی تحقیقات سی بی آئی کو سونپ دی تھی۔ اس کے علاوہ مقدمے کی سماعت بھی گجرات سے ممبئی کی خصوصی عدالت میں منتقل کر دی گئی تھی۔