حیدرآباد۔ 19 فبروری (راست) ۔ سہ روزہ کتب میلے کا افتتاح اتوار 8 فروری کو مولانا ابوالکلام آزاد ریسرچ انسٹیٹیوٹ باغ عامہ حیدراباد میں جناب عامر علی خان نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ یہ میلہ 20 فروری تک 11 بجے صبح تا پانچ بجے شام جاری رہے گا۔ میلے میں مشہور شعراء اور مصنفین کی کتب کے علاوہ نئے قلمکاروں کی کتابیں بھی رکھی گئی ہیں جو رعایتی قیمتوں پر دستیاب ہیں پروفیسر اشرف رفیع صدر انسٹیٹیوٹ کی صدارت میں منعقدہ افتتاحی اجلاس میں اردو اکیڈمی کے سابقہ ڈائریکٹر اور ادارہ مذکورہ کے نائب صدر پروفیسر ایس اے شکور، ایڈوکیٹ اور نائب صدر ادارہ غلام یزدانی، اراکین ادارہ جناب عزیز احمد، ڈاکٹر سردار سرجن سنگھ، جناب خواجہ معیز الدین کے علاوہ ڈاکٹر مصطفی علی سروری اسوسی ایٹ پروفیسر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی اور دیگر نے شرکت کی۔ میلے کے انعقاد کا سہرا ڈاکٹر جاوید کمال ڈائریکٹر سیکرٹری مولانا ابوالکلام آزاد ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے سر جاتا ہے۔ کتابوں کو نہایت خوبصورتی کے ساتھ مختلف موضوعات، جیسے اسلامی لٹریچر، شاعری، مزاح نگاری وغیرہ کے اعتبار سے ترتیب دیا گیا ہے۔ خواتین قلم کاروں کے لیے ایک خصوصی گوشہ، گوشہ خواتین کے نام سے مختص کیا گیا ہے۔ قلم کاروں کے ناموں کو تختیوں کے ذریعے نمایاں کیا گیا ہے اس موقع پر پروفیسر اشرف رفیع نے اردو قارئین کی تعداد میں کمی پر تشویش کا اظہار کیا۔ مطالعہ کے شوق میں کمی کو مد نظر رکھتے ہوئے مہمان خصوصی جناب میر عامر علی خان نے داستان گوئی یعنی آڈیو بکس کی تیاری کی تجویز رکھی اور اس کاز میں بھرپور تعاون کا تیقن دیا۔شرکاء نے میلے کے منتظمین کو میلے کی کامیاب پیشکشی پر مبارک باد پیش کی اور ان کی کاوشوں کی ستائش کی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ میلہ نئی نسل میں اردو کے ذوق کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا اور قلم کاروں کی حوصلہ افزائی کا ضامن ہوگا۔ شرکاء نے خیال ظاہر کیا کہ ڈیجیٹل میڈیا کی آمد سے اردو مطالعہ کا شوق کافی حد تک متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مطالعہ کے شوقین بھی کتاب خرید کر پڑھنے پر انٹرنیٹ پر ڈیجیٹل کاپیز پڑھنے کو ترجیح دے رہے ہیں کیونکہ ایک کلک پر وہ انہیں کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ پر دستیاب ہو جاتی ہیں۔مصنفین نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ہزاروں روپے خرچ کر کے کتاب شائع کرنے کے بعد بھی کتاب کا کوئی خریدار یا قاری نہیں ملتا مجبورا انہیں اپنے احباب کو اعزازی طور پر کتابیں تحفتاً پیش کرنی پڑتی ہیں، بصورت دیگر وہ گھروں میں گرد و غبار کی نظر ہو جاتی ہیں کنوینر جناب جاوید کمال کے مطابق اس میلے کے انعقاد کا مقصد نئی نسل کو مصنفین اور شعرا سے واقف کروانا اور قلم کاروں کو ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے جس کے ذریعے وہ رعایتی قیمت پر اپنی کتب کی نکاسی کر سکیں۔ اس کے علاوہ شائقین کو مختلف موضوعات پر کتب ایک ہی چھت تلے مہیا کرانا بھی میلے کے مقاصد میں شامل ہے۔ میلے میں نادر و نایاب کتب بھی رکھی گئی ہیں، جن میں قران کا وہ نسخہ بھی شامل ہے جو اردو اور فارسی کا سب سے پہلا ترجمہ مانا جاتا ہے۔