ملک گیر سطح پر مسلمان نشانہ ، قائدین سے استفسارات ضروری
حیدرآباد۔15اپریل(سیاست نیوز) ملک میں مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئے انہیں خوفزدہ کرنے کی کوشش اور ان کوششوں کے درمیان نفرت پیدا کرنے والے سیاستدانوں کی سرگرمیاں ملک میں مسلمانوں کی زندگی کو اجیرن بنا سکتے ہیں ۔ ماہ رمضان المبارک کے آغاز سے قبل ملک بھر میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی کوششوں کے دوران گذشتہ ہفتہ رام نومی شوبھا یاترا کے انعقاد کے نام پر مسلمانوں کو نشانہ بنانے اور اشتعال انگیز تقاریر اور ہتھیاروں کے ساتھ رقص کے علاوہ آتشزنی و مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچائے جانے کے واقعات نے ملک بھر میں سنجیدہ مسلم مفکرین کو تشویش میں مبتلاء کردیا ہے اور وہ ان حالات کے لئے نفرت پیدا کرنے والے سیاستدانوں اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہاتھوں کٹھ پتلی کی طرح کام کرنے والوں کو برابر کا ذمہ دارقرار دیتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ وہ سیاستدان جو بی جے پی کی مدد کر رہے ہیں ہندستانی مسلمانوں کو ایک ایسی جنگ میں جھونک چکے ہیں جس میں شکست ہوچکی ہے ۔اترپردیش سے تعلق رکھنے والے ایک سابق رکن راجیہ سبھا نے اپنے ایک ویڈیو پیام میں ہندستانی مسلمانو ں کو متحد ہوتے ہوئے ملک بھر میں عید الفطر کے اجتماعات کے دوران پر امن احتجاج کو یقینی بنانے کی اپیل کی ہے اور کہا کہ اب حالات انتہائی ناگفتہ بہ ہوچکے ہیں اور ان حالات میں بھی اگرمسلم قوم بے حسی کا مظاہرہ کرتی ہے تو اس ملک میں اس کے لئے کوئی محفوظ مقام باقی نہیں رہ جائے گا۔سابق رکن راجیہ سبھانے بتایا کہ مسلمانوں کو اب سر جوڑ کر حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت ہے اور اگر اب بھی وہ خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں تو وہ دن دور نہیں جو کہہ رہے ہیں وہ لوگ کردکھائیں گے ۔ جنوبی ہند کی ریاستوں کے علاوہ ان ریاستوں کے عوام جو نسل کشی کا سامنا کرچکے ہیں وہ منافرت پھیلانے والے سیاستدانوں کو مسلم رہنماء کے طور پر خود کو پیش کرنا بند کرنے کا مطالبہ کرنے لگے ہیں اور سرکردہ مسلم تنظیموں کو بھی اب سوشل میڈیا کے ذریعہ نشانہ بناتے ہوئے نوجوانوں کی جانب سے سوال کئے جانے لگے ہیں کہ آیا ان تنظیموں کی جانب سے حالیہ عرصہ میں ایسے کونسے کام کئے گئے ہیں جن پر ان تنظیموں کے استحکام کیلئے کام کیا جائے یا ان کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر کس طرح چلاجائے!ملک بھر میں مسلمانوں کے مسائل اور ان کی حالت زار کا اندازہ لگانے کے بجائے بی جے پی کے مددگار سیاستدانوں کو اپنے مفادات عزیز ہیں جبکہ انہیں قوم و ملت کی کوئی پرواہ نہیں ہے بلکہ وہ ان حالات میں سنجیدگی سے کام لینے کے بجائے اپنے فائدہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے کام کررہے ہیں ۔کرناٹک ‘ راجستھان‘ مدھیہ پردیش‘ بہار کے علاوہ دیگر ریاستوں میں پیش آنے والے واقعات کے بعد بھی اگر امت مسلمہ اپنے مفادات کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے منظم حکمت عملی تیار نہیں کرتی ہے تو ایسی صورت میں زہر آلود ہوچکے ذہنوں کا مقابلہ کرنا کسی بھی تنظیم‘ جماعت یا ادارہ کے بس کی بات نہیں رہے گی اسی لئے ہر فرد کو ان حالات سے مقابلہ کے لئے خود کو تیار کرنا ہوگا اور اپنے قائدین سے استفسار کرنا ہوگا ۔م