حیدرآباد ۔ 15 اکٹوبر (سیاست نیوز) اگر گینگسٹر نعیم کی جانب سے زبردستی چھینی گئی جائیدادوں کو اس کے قریبی رشتہ داروں کو واپس کیا گیا تو ستم ظریفی کی موت ہوگی کیونکہ جبراً حاصل کی گئی چیزوں کو واپس کرنے بے نامی ایکٹ اب الٹے اثر والا ہے۔ نعیم کا انکاؤنٹر 8 اگست 2016ء کو ہوا اور اگست سے اس کے حامیوں کے خلاف مقدمات درج کئے گئے۔ انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ نے یکم ؍ نومبر سے بے نامی ایکٹ کے قواعد کا اعلان کیا۔ ایس آئی ٹی کے عہدیدار دوبارہ یہ سوچ رہے ہیں کہ یہ جائیدادیں کس طرح متاثرین کے حوالہ کرنی چاہئے کیونکہ عدالتی حکام نے وضاحت کی کہ اس ایکٹ کا اطلاق نومبر 2016ء سے پہلے ہوئی معاملتوں پر نہیں ہوتا ہے۔ بے نامی ٹرانزیکشنس (پروہیبیشن) امینڈمنٹ ایکٹ 2016ء حکومت کو یہ اختیار دیتا ہیکہ کسی دوسرے شخص کے نام پر یا من گھڑت نام کے تحت بے نامی جائیدادوں اور اثاثہ جات کو قرق کرے جو ٹیکس ادا کرنے سے بچنے اور دولت کو چھپانے کیلئے دوسروں کے نام پر رکھی گئی ہوں۔ دراصل ایس آئی ٹی کے عہدیداروں کی جانب سے نشاندہی کئے گئے تمام اثاثہ جات کی معاملتیں یکم؍ نومبر 2016ء سے پہلے ہوئی ہیں۔ اس میں ایسا معلوم ہوتا ہیکہ مبینہ طور پر سیاسی دباؤ کے باعث کیسیس اس انداز سے درج کئے گئے کہ بعض پارٹیوں کو فائدہ ہو اور نعیم کی بے نامی جائیدادوں کو فیملی کو دیا جائے۔ مبینہ طور پر یہ کہا جاتا ہیکہ بعض بڑے سیاسی قائدین نے کیسیس درج کرنے میں کچھ کہا تھا جس کی وجہ اب کارروائی کرنا تقریباً مشکل ہے۔ اس ایکٹ کے مطابق بے نامی ناموں پر ہونے والی جائیدادوں کو حکومت کوئی معاوضہ دیئے بغیر بحق سرکار ضبط کرسکتی ہے۔ اصطلاح ’’جائیداد‘‘ سے مراد منقولہ، غیرمنقولہ، محسوس اور غیرمحسوس جائیدادیں ہیں۔ نعیم الدین کے انکاؤنٹر کے بعد تقریباً 260 مقدمات داخل کئے گئے۔ ایک ہزار ایکر سے زائد کو حاصل کیا گیا، 29 مکانات، 2 لاکھ گز زمین کی نشاندہی کی گئی۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہیکہ متاثرہ لوگوں کو جو جائیدادیں ان سے جبراً لی گئی تھیں ہوسکتا ہیکہ انہیں واپس حاصل نہیں ہوں گی۔ ایس آئی ٹی ٹیم کی جانب سے ضبط کی گئی جائیدادوں اور اثاثہ جات کی قیمت ایک ہزار کروڑ سے زائد ہے۔ یہ کیوں ہوا اس کی وجہ یہ ہیکہ اس میں الزامات ہیں کہ بعض بڑوں کی ہدایت کے باعث جائیداد حوالہ کرنے پر رکاوٹ ہورہی ہے۔