نئی دہلی میں اعلی سطحی میٹنگ کی صدارت، الیکٹرانکس، آئی ٹی، ریلویز اور اطلاعات و نشریات کے وزراء کی شرکت
نئی دہلی، 23 اپریل (یو این آئی) خزانہ اور کارپوریٹ امور کی مرکزی وزیر نرملا سیتارامن نے جمعرات کو قومی دارالحکومت میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی، جس میں بینکنگ اور مالیاتی نظام کے سامنے مصنوعی ذہانت سے جڑے ابھرتے ہوئے سائبر خطرات کا جائزہ لیا گیا۔ اس میٹنگ میں الیکٹرانکس اور آئی ٹی، ریلوے اور اطلاعات و نشریات کے وزیر اشونی ویشنو بھی شامل تھے ۔ وزارت خزانہ نے بتایا کہ میٹنگ میں اے آئی کے ابھرتے ہوئے ماڈلز سے وابستہ ممکنہ خطرات، خاص طور پر سافٹ ویئر کی کمزوریوں کے غلط استعمال کے خدشات کا اندازہ لگایا گیا۔ اس موقع پر محکمہ مالیاتی خدمات کے سکریٹری ایم ناگ راجو، انڈین کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم کے ڈائریکٹر جنرل سنجے بہل، ریزرو بینک آف انڈیا اور نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا کے سینئر حکام کے علاوہ تمام شیڈول کمرشل بینکوں کے ایم ڈی اور سی ای او موجود تھے ۔ میٹنگ کے دوران وزیر خزانہ سیتارامن نے بینکوں کی جانب سے سائبر سکیورٹی سسٹم اور پروٹوکول کو مضبوط بنانے کے لیے اب تک کیے گئے کاموں کی تعریف کی۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ جدید ترین اے آئی ماڈلز سے پیدا ہونے والے خطرات حیران کن ہیں، جن کے لیے مالیاتی اداروں کے درمیان اعلیٰ درجے کی چوکسی، تیاری اور بہتر ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ وزیر خزانہ نے انڈین بینکنگ ایسوسی ایشن کو ہدایت دی کہ ایسے خطرات سے تیزی اور مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے ایک مربوط ادارہ جاتی طریقہ کار تیار کیا جائے ۔ انہوں نے بینکوں کو مشورہ دیا کہ وہ بہترین سائبر سکیورٹی ماہرین اور خصوصی ایجنسیوں کی خدمات حاصل کریں تاکہ ان کی نگرانی اور حفاظتی صلاحیتوں کو مسلسل مضبوط بنایا جا سکے ۔ بینکوں کو یہ بھی ہدایت دی گئی کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی یا سائبر واقعے کی فوری اطلاع متعلقہ حکام، خاص طور پر کمپیوٹر ایمرجنسی ریسپانس ٹیم کو دیں اور تمام متعلقہ ایجنسیوں کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھیں۔ وزارتِ خزانہ کے ایک بیان کے مطابق، فعال اقدامات اٹھانے پر زور دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے بینکوں سے اپنے آئی ٹی سسٹم کی سکیورٹی، صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ اور مالی وسائل کی سلامتی کے لیے تمام ضروری پیشگی حفاظتی اقدامات اپنانے کی اپیل کی۔
اس کے ساتھ ہی، بینکوں، انڈین کمپیوٹر ایمرجنسی ریسپانس ٹیم اور دیگر متعلقہ ایجنسیوں کے درمیان ‘ریئل ٹائم تھریٹ انٹیلی جنس’ (بر وقت خطرات کی معلومات) شیئر کرنے کے لیے ایک مضبوط نظام قائم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا تاکہ ابھرتے ہوئے خطرات کی بروقت شناخت کر کے پورے سسٹم میں فوری طور پر معلومات فراہم کی جا سکیں۔