بنگلورو: کرناٹک پولس نے جبری تبدیلی مذہب کے معاملے میں شہر میں پہلی گرفتاری عمل میں لائی ہے۔ پولیس نے آج کہا کہ ملزم نے اپنی بیوی کو مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا تھا۔ 26 سالہ سید معین پر ایک ہندو لڑکی کو زبردستی اسلام قبول کرانے کا الزام ہے۔ ملزم اترپردیش کے گورکھپور کی 18 سالہ لڑکی سے محبت کرتا تھا جو اپنے خاندان کے ساتھ سلیکن ویلی میں رہتی تھی۔ ملزم نے مبینہ طور پر لڑکی پر شادی کی خواہش رکھتے ہوئے مذہب تبدیل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔ پولیس نے بتایا کہ لڑکی نے مسجد میں جا کر اسلام قبول کر لیا تھا۔لڑکی کے والد پیشے کے اعتبار سے پینٹر ہیں۔لڑکی کی والدہ نے اس سے کہا کہ وہ جلد بازی میں فیصلہ نہ کرے۔5 اکتوبر کو لڑکی گھر واپس نہیں آئی۔ ایک ہفتے بعد وہ پولیس کے سامنے پیش ہوئی۔ والدین نے بنگلورو پولیس میں انسداد تبدیلی مذہب ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا۔ ریاستی وزیر داخلہ اے گیانندرا نے کہا کہ وہ اس معاملے کی مکمل تفصیلات حاصل کریں گے ۔