شیر تنہا آتا ہے، جھنڈ میں کون آتے ہیں عوام اچھی طرح جانتے ہیں۔ روڈ شو سے کے ٹی آر کا خطاب
حیدرآباد۔ ٹی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے کہا کہ سیاسی تفریح سے حیدرآباد کی کوئی ترقی نہیں ہوگی ۔ ایک درجن بی جے پی قائدین بشمول مرکزی وزراء حیدرآباد کو سیر و تفریح کو آ کر مذہبی جذبات کو مجروح کررہے ہیں۔ آج مختلف مقامات پر روڈ شوز سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر شیر ہیں اور شیر تنہا آتا ہے جھنڈ میں کون آتے ہیں عوام اچھی طرح جانتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جب حیدرآباد سیلاب سے متاثر تھا تب کسی مرکزی وزیر یا بی جے پی کے کوئی قائد نے حیدرآباد کا دورہ نہیں کیا آج ووٹ مانگنے بی جے پی قائدین سیلاب کی طرح حیدرآباد میں امنڈ پڑے ہیں۔ کنٹونمنٹ سڑکوں کے مسائل حل کرنے میں مرکزی حکومت ناکام ہوگئی ہم نئی سڑکیں تعمیر کررہے ہیں اور مرکزی حکومت کنٹونمنٹ سڑکوں کو عوام کیلئے بند کررہی ہے۔ چیف منسٹر کے سی آر سیلاب متاثرین میں امداد تقسیم کررہے تھے جس کو بی جے پی نے رکوادیا ہے۔ حیدرآباد میں 50 فیصد جائیداد ٹیکس معاف کردیا گیا۔ لا اینڈ آرڈر کی برقراری کیلئے گلی گلی میں 5 لاکھ سی سی کیمرے لگائے گئے۔ اگر کرفیو لگانے کی نوبت آئی تو ہم سب کو نقصان ہوگا۔ 4 ڈسمبر کے بعد دوبارہ سیلاب کے متاثرین میں 10 ہزار روپئے دینے کا اعلان کیا۔ کے ٹی آر نے عوام سے اپیل کی کہ اگر ان کے بینک کھاتوں میں 15 لاکھ روپئے جمع ہوئے ہیں تو وہ بی جے پی کو ووٹ دیں ورنہ ٹی آر ایس کو ووٹ دیں۔ امن چاہیئے یا تشدد برپا کرنے والے چاہیئے عوام فیصلہ کرلیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے ٹی آر ایس کے انتخابی منشور کی نقل کی ہے صرف ترقیاتی کاموں کا ہی نہیں بلکہ ٹی آر ایس منشور کی تصاویر کا بھی سرقہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نقل کرنے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے خود اپنا انتخابی منشور تیار نہ کرنے والی بی جے پی کل حیدرآباد کی ترقی کا کیا خاک منصوبہ تیار کرے گی۔ انہوں نے بی جے پی کے نعرہ تبدیلی پر طنزکرتے ہوئے کہا کہ پرامن شہر حیدرآباد میں جھگڑے پیدا کرنا کیا تبدیلی ہے ؟ ۔ ترقی کو نظرانداز کرکے تشدد کی حوصلہ افزائی کرنا کیا تبدیلی ہے۔ گلوبل سٹی کو کیا گوکل چاٹ دھماکہ میں تبدیل کرنا تبدیلی ہے۔ کرفیو سے پاک حیدرآباد کو کرفیو زدہ بنادینا تبدیلی ہے۔ بی جے پی کو ووٹ دینے پر کورونا ویکسین فری دینے کے وعدے کی بھی کے ٹی آر نے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی بی جے پی کو ووٹ نہیں دے گا تو کیا اسے مرنے کیلئے چھوڑ دیا جائیگا ۔ کورونا بحران کے دوران نقل مقام کرنے والے مزدوروں سے ریلوے کرایہ وصول کرنے کا اعزاز بی جے پی کو ہے۔ انتخابات کے بعد بی جے پی عوام سے کورونا ٹیکہ کیلئے بھی فیس وصول کرنے کا دعویٰ کیا۔ شہر کو خصوصی پیاکیج کا وعدہ کرکے عوام کے کانوں میں پھول لگانے کی کوشش کرنے کا بی جے پی پر الزام عائد کیا۔