سیزرین آپریشن ڈیلوریز میں تلنگانہ سارے ملک میں سرفہرست

   

خانگی ہاسپٹلس میں 83.9 فیصد سرکاری ہاسپٹلس میں 48.1 فیصد، مرکز کی چونکا دینے والی رپورٹ
حیدرآباد ۔ 30 مئی (سیاست نیوز) مرکزی وزارت صحت اور خاندانی بہبود کے تحت نیشنل فیملی ہیلت سروے (NFHS-5) کے چونکا دینے والے اعدادوشمار سامنے آئے ہیں جس کے مطابق ریاست تلنگانہ پورے ملک میں سیزرین (سی سیکشن) آپریشنس کے معاملے میں سرفہرست ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہیکہ تلنگانہ اگرچہ صحت کے دیگر شعبوں اور اشاریوں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کررہا ہے لیکن زچگی کے دوران بڑے آپریشنس (سیزیرین) کی بڑھتی ہوئی تعداد نے طبی ماہرین اور محکمہ صحت کے عہدیداروں کو گہری تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق ریاست میں ہونے والی پر 10 ڈیلیوریوں میں سے 6 آپریشنس کے ذریعہ کی جارہی ہیں۔ سروے رپورٹ کے مطابق تلنگانہ میں زچگی کے 98.8 فیصد کیسیس ہاسپٹلس میں محفوظ طریقے سے انجام پاتے ہیں جوکہ 90.6 فیصد کی قومی اوسط سے کہیں بہتر ہے لیکن اس کے ساتھ ہی یہاں 62.2 فیصد ڈیلیوریز سیزرین سیکشن کے ذریعہ ہورہی ہیں۔ یہ شرح 27.2 فیصد کی قومی اوسط سے دوگنا سے بھی زیادہ ہے جس پر مرکزی وزارت صحت نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہیکہ سال 2019ء اور 2021ء کے درمیان کئے گئے NFSH-5 سروے کے دوران تلنگانہ میں سیزرین آپریشنس کی شرح 60.7 فیصد سے بڑھ کر موجودہ سطح تک پہنچ گئی اور پچھلے سروے کے مقابلے میں یہ تعداد تقریباً دوگنی ہوچکی ہے جوکہ ملک کے کسی بھی دوسری ریاست یا مرکز کے زیرانتظام علاقے کے مقابلے میں سب سے تیز رفتار اضافہ ہے۔ تلنگانہ کے بعد پڑوسی ریاست آندھراپردیش 52.2 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے جبکہ ناگالینڈ میں سب سے کم یعنی صرف 13.2 فیصد سیزرین آپریشنس ریکارڈ کئے گئے۔ اس سروے میں سرکاری اور خانگی ہاسپٹلس کا ایک چونکا دینے والا موازانہ بھی پیش کیا گیا۔ تلنگانہ کے خانگی ہاسپٹلس میں ہونے والی زچگیوں میں سیزرین کا تناسب 83.9 فیصد کی خوفناک سطح پر پہنچ گیا۔ سرکاری ہاسپٹلس میں بھی سیزرین کی شرح 48.1 فیصد درج کی گئی ہے۔2