بادل پھٹنے کیلئے بعض ممالک ذمہ دار، لداخ اور اُترا کھنڈ کے سیلاب کا حوالہ
حیدرآباد۔/17 جولائی، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے دریائے گوداوری میں سیلاب کے پسِ پردہ بیرونی سازش کا اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے سنسنی خیز ریمارک کیا ہے۔ سیلاب سے متاثرہ بھدرا چلم کے دورہ کے موقع پر چیف منسٹر کے سی آر نے ریمارک کیا کہ اچانک بادلوں کا پھٹ جانا اس کے پیچھے بعض ممالک کی سازش ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں حالیہ سیلاب کی صورتحال دیکھتے ہوئے انہیں یہ اندیشہ ہوا ہے تاہم اس سلسلہ میں تصدیق باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بسا اوقات بادلوں کا پھٹ پڑنا مصنوعی ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق میں کشمیر کے لداخ اور اُترا کھنڈ میں بادلوں کے پھٹ پڑنے کے ذریعہ بھیانک سیلاب کی صورتحال پیدا ہوئی تھی۔ یہ بعض دیگر ممالک کی سازش ہوسکتی ہے تاکہ ہمارے ملک کو نقصان پہنچایا جائے ۔ تلنگانہ کے حالیہ سیلاب کے پس پردہ یہی سازش ہوسکتی ہے تاہم انہوں نے سیلاب کو ماحولیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی طور پر بادل پھٹ پڑنے کے بارے میں کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ بادلوں کے پھٹ پڑنے کے پسِ پرد ہ بعض سازش کے بارے میں کہا جارہا ہے۔ سازش کس حد تک صحیح ہے اس کا پتہ نہیں۔ دیگر ممالک جان بوجھ کر ہمارے ملک میں جگہ جگہ بادلوں کے پھٹ پڑنے کی صورتحال پیدا کرتے ہیں۔ گوداوری کے اطراف کے علاقوں میں بادلوں کا پھٹ پڑنا اسی سازش کا حصہ کہا جارہا ہے۔ چاہے کچھ ہو لیکن عوام کا تحفظ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ چیف منسٹر کے سی آر کے سازش سے متعلق ریمارکس سوشیل میڈیا میں تیزی سے وائرل ہوچکے ہیں اور سیاسی اور عوامی حلقوں میں اس مسئلہ پر بحث شروع ہوچکی ہے۔ سوشیل میڈیا میں لوگوں کا کہنا ہے کہ آیا چیف منسٹر کو انٹلیجنس کے ذریعہ یہ اطلاع ملی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ محکمہ موسمیات اور اس کے ماہرین اس مسئلہ پر کیا تبصرہ کریں گے۔ چیف منسٹر نے بھدرا چلم میں بیرونی سازش کا بیان دیتے ہوئے ہر کسی کو حیرت میں ڈال دیا۔ وہ متاثرہ افراد کے ریلیف کیمپ میں خطاب کررہے تھے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ محکمہ موسمیات نے 29 جولائی تک بارش کی پیش قیاسی کی ہے لہذا عہدیداروں کو چوکس رہنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے لہذا ہمیں چوکسی کی ضرورت ہے۔ر