ہم خیال علاقائی جماعتوں سے مشاورت کا آغاز، ڈسمبر میں دہلی میں جلسہ عام: بی ونود کمار
حیدرآباد ۔10 ۔ اکتوبر (سیاست نیوز) قومی سطح پر سیاست میں حصہ لینے کے لئے ٹی آر ایس کی بی آر ایس میں تبدیلی کے فیصلہ کے بعد علاقائی جماعتوں کی تائید حاصل کرنے کی سرگرمیاں تیز ہوچکی ہیں۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے نائب صدر نشین پلاننگ بورڈ بی ونود کمار کو نئی دہلی میں اہم ذمہ داریاں دی ہیں اور وہ مختلف علاقائی جماعتوں سے ربط میں ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ دہلی ، اترپردیش ، بہار، پنجاب اور راجستھان سے کئی قائدین نے ربط قائم کرتے ہوئے بی آر ایس میں شمولیت کا ارادہ ظاہر کیا ہے ۔ کے سی آر نے شمولیت طئے کرنے کیلئے پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ ٹی آر ایس کو بی آر ایس میں تبدیل کرنے کیلئے الیکشن کمیشن نے ونود کمار نے باقاعدہ درخواست داخل کی ۔ چیف منسٹر ڈسمبر میں دہلی میں بڑے جلسہ عام کا منصوبہ رکھتے ہیں، تاہم ہمخیال اپوزیشن قائدین سے ملاقات کیلئے وہ درمیان میں دہلی کا دورہ کرسکتے ہیں۔ اسی دوران بی ونود کمار نے کہا کہ بی آر ایس کا ایجنڈہ دراصل دستور ہند کی اصل روح ہے جس میں سیکولر ، جمہوریت اور سوشلسٹ نظریات پر قائم رہنے کا عہد کیا گیا ہے ۔ قومی سطح پر بی آر ایس ایک سیکولر، جمہوری اور سوشلسٹ طاقت بن کر ابھرے گی ۔ تمام طبقات کو انصاف دلانا پارٹی کا بنیادی ایجنڈہ رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی قومی سطح پر اپوزیشن کو متحد کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے اور اس کمی کو بی آر ایس پورا کرے گی۔ بی آر ایس کی کامیابی کے امکانات کے بارے میں پوچھے جانے پر ونود کمار نے کہا کہ 1977 ء میں جنتا پارٹی جیل میں قائم کی گئی اور انتہائی کم مدت میں لوک سبھا کی 350 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی۔ بی آر ایس کو ملک کے مختلف علاقوں سے غیر معمولی ردعمل حاصل ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس پارٹی پرچم کا رنگ گلابی برقرار رہے گا اور کار کے انتخابی نشان کو اختیار کرنے کا منصوبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں پارٹی کے لئے ایک ہی انتخابی نشان کی مساعی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی سطح پر مضبوط متبادل کی کمی کے نتیجہ میں نریندر مودی کو دوسری مرتبہ کامیابی حاصل ہوئی۔ ملک میں دولتمند اور غریب کے درمیان فاصلہ بڑھ چکا ہے اور یہ ملک کے اجتماعی مفاد میں نہیں ہے۔ ونود کمار کے مطابق ڈسمبر میں کے سی آر دہلی میں بی آر ایس کے باقاعدہ قومی سیاسی پارٹی کے طور پر اعلان کے وقت ایجنڈہ کا بھی اظہار کریں گے۔ لوک سبھا انتخابات کے بعد بی آر ایس کو قومی سطح پر مسلمہ حیثیت حاصل ہوگی۔ ونود کمار نے اسمبلی انتخابات میں معلق اسمبلی کے امکانات کو مسترد کردیا اور کہا کہ ٹی آر ایس واضح اکثریت حاصل کرے گی۔ انہوں نے بی آر ایس کو بی جے پی کی بی ٹیم قرار دینے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ ہر نئی پارٹی کے قیام کے وقت اس طرح کے الزامات کا سامنا کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ونود کمار نے بتایا کہ قومی سطح پر تلنگانہ ماڈل عوام کے روبرو پیش کیا جائیگا۔ر