سی ایم آر کالج کو تین یوم کی چھٹی، طالبات کے احتجاج کے بعد مختلف زاویوں سے تحقیقات

   

کیمروں کی جانچ، ہاسٹل وارڈن اور میس کارکنوں سے پوچھ تاچھ، ویمن کمیشن سے کمشنر پولیس کو نوٹس
حیدرآباد ۔ 4 جنوری (سیاست نیوز) سائبرآباد پولیس نے سی ایم آر انجینئرنگ کالج کی طالبات کے ان الزامات کی تحقیقات کو تیز کردیا ہے کہ ان کے ہاسٹل کے واش رومس میں خفیہ طور پر فلمایا گیا تھا جبکہ کالج انتظامیہ نے تین دن کی چھٹی کا اعلان کیا ہے۔ پولیس نے ہاسٹل وارڈن اور میس کے چھ کارکنوں کو پوچھ گچھ کیلئے حراست میں لے لیا ہے اور ان کے موبائیل فون ضبط کرلئے ہیں۔ حیدرآباد کے مضافات میں میڑچل کے کالج کیمپس میں اس وقت احتجاج شروع ہوا جب طالبات نے الزام لگایا کہ انہیں ہاسٹل کے واش رومس میں خفیہ طور پر کیمرے لگائے گئے ہیں اور اس سے فلمبندی کی جارہی ہیں۔ سائبرآباد پولیس کمشنریٹ کے میڑچل پولیس اسٹیشن میں جمعرات کو بھارت نیا مہنتا (بی این ایس) کی دفعہ 77 اور 125 (ذاتی تحفظ یا دوسروں کی زندگی کو خطرہ میں ڈالنے) کے تحت ایک کیس درج کیا گیا تھا۔ پولیس نے ہاسٹل میس کے چھ مرد کارکنوں اور وارڈن پریتی ریڈی کو بھی پوچھ گچھ کیلئے طلب کرلیا ہے۔ اے سی پی بی سرینواس ریڈی نے کہا کہ کالج انتظامیہ کے خلاف لاپرواہی کا معاملہ بھی درج کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ نے میس میں نہ صرف مرد کارکنوں کو ملازم رکھا بلکہ انہیں خواتین کے واش روم کے ساتھ ان کے قیام کیلئے کمرے بھی فراہم کئے ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ کارکنوں کو واش روم کے وینٹی لیٹر تک رسائی حاصل تھی۔ ایک طالبہ نے الزام لگایا کہ اس نے ایک شخص کا سایہ دیکھا اور وارڈن کے نوٹس میں لایا لیکن وارڈن کی جانب سے کوئی جواب نہ آنے پر طالبات نے احتجاج شروع کردیا۔ طالب علموں کو شبہ ہیکہ ان کی ویڈیوز ریکارڈ کی گئی ہے۔ کالج میں کشیدگی پھیل گئی۔ جب ایس ایف آئی، این ایس یو آئی اور اے بی وی پی جیسی تنظیموں نے طلبہ کی حمایت میں احتجاج میں شمولیت اختیار کی اور ان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ کشیدہ صورتحال اور جاری تحقیقات کے پیش نظر کالج انتظامیہ نے تین دن کی چھٹی کا اعلان کردیا۔ اے سی پی نے بتایا کہ 12 کارکنوں کے موبائل فون ضبط کرلئے ہیں۔ ہمیں ابھی تک اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ انہوں نے ویڈیوز ریکارڈ کیں۔ ان کے فون میں کوئی فحش ویڈیو نہیں ملے۔ تاہم ہم اسبات کی تصدیق کررہے ہیں کہ آیا کوئی ویڈیو ڈیلیٹ کئے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ فنگر پرنٹ ماہرین نے اس بات کا تجزیہ کررہے تھے کہ کیا نشانات کسی کارکن کے فنگرپرنٹس سے ملتے ہیں۔ اے سی پی نے والدین سے اپیل کی کہ وہ افواہوں پر پریشان نہ ہوں کہ 150 تا 300 ویڈیوز ریکارڈ کئے گئے ہیں۔ تلنگانہ اسٹیٹ ویمنس کمیشن نے اس واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ کمیشن نے سائبرآباد کے کمشنر پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے فوری کارروائی پر زور دیا اور کارروائی کی رپورٹ طلب کی۔ ش