نئی دہلی ۔15؍اکتوبر ( ایجنسیز )دہلی ہائی کورٹ نے سی جے پی کے احتجاج پر روک لگانے سے انکار کردیا۔پولیس کو احتجاج منظم کرنے اور قانون کے مطابق ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔دہلی ہائی کورٹ نے جمعرات کے روز کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) اور اس کے بانی ابھیجیت ڈپکے کو 16 اکتوبر بروز جمعہ کناٹ پلیس کے سنٹرل پارک میں احتجاج کرنے سے روکنے سے انکار کردیا۔ تاہم عدالت نے پولیس کی اس یقین دہانی کو ریکارڈ پر لیا کہ احتجاج کو منظم کرنے اور ممکنہ بدنظمی سے نمٹنے کیلئے قانون کے مطابق تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ایکٹِنگ چیف جسٹس نتن واسودیو سامبرے اور جسٹس سنجے شرما پر مشتمل بنچ ایک عوامی مفاد کی درخواست (پی آئی ایل) کی سماعت کررہی تھی جو پالیا بازار کے لائسنس یافتہ ریڈی میڈ گارمنٹس فروش انیل کمار گپتا کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔ درخواست گزار نے خدشہ ظاہر کیا کہ احتجاج کے نتیجے میں کناٹ پلیس اور پالیا بازار کے تاجروں اور خوانچہ فروشوں کا بالخصوص تہواروں کے موسم میںکاروبار متاثر ہوسکتا ہے۔سماعت کے دوران ایڈیشنل سالیسٹر جنرل چیتن شرما نے عدالت کو بتایا کہ سی جے پی کی سرگرمیوں کو قابو میں رکھنے کیلئے اقدامات کیے گئے ہیں اور ضرورت پڑنے پر قانون کے مطابق مزید کارروائی کی جائے گی۔ عدالت نے اس یقین دہانی کو اپنے حکم میں درج کرلیا۔ عدالت نے معاملے کی آئندہ سماعت 3 نومبر کو مقرر کردی۔درخواست گزار کے سینئر وکیل سچن پوری نے مؤقف اختیار کیا کہ کناٹ پلیس کا سنٹرل پارک احتجاج کے لیے مقررہ مقام نہیں ہے اور وہاں مظاہرے سے علاقے کی کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ احتجاجوں کے دوران سڑکوں کی ناکہ بندی اور آمدورفت میں رکاوٹ کے باعث تاجروں کو نقصان اٹھانا پڑا تھا۔واضح رہے کہ ابھیجیت ڈپکے نے چہارشنبہ کے روز حامیوں سے اپیل کی تھی کہ وہ قومی پرچم کے ساتھ سنٹرل پارک میں جمع ہوں۔ انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ پارٹی کے ارکان سورَو داس اور اشوتوش رنکا کو ترنگا لہرانے کے معاملے میں جیل بھیجا گیا ہے۔ دونوں کو جنتر منتر میں مبینہ طور پر امن برقرار رکھنے کے پابند عہد کی خلاف ورزی اور غیر مجاز داخلے کے الزامات کے تحت پانچ دن کی عدالتی تحویل میں بھیجا گیا ہے۔سپریم کورٹ ماضی میں مزدور کسان شکتی سنگٹھن اور شاہین باغ احتجاجی مقدمات میں یہ ہدایات دے چکی ہے کہ مظاہروں کے دوران ٹریفک، دفاتر کے داخلی راستوں اور اہم سڑکوں کو بند نہیں کیا جانا چاہیے۔