شادی مبارک اسکیم کے درخواست گذار بھی انتظار میں

   

حیدرآباد۔22۔ڈسمبر(سیاست نیوز) تلنگانہ کے محکمہ اقلیتی بہبود کی کارکردگی بجٹ کی عدم اجرائی کے سبب ٹھپ ہوچکی ہے اور حکومت کی چیف منسٹر اوورسیز اسکالر شپس‘ شادی مبارک اسکیم‘ فیس کی بازادائیگی ‘ اسکالرشپس کی اجرائی کے علاوہ دیگر اسکیمات کیلئے بھی محکمہ اقلیتی بہبود کے پاس بجٹ نہیں ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں نے تصدیق کی کہ شادی مبارک اسکیم کی درخواستوں کی بروقت اجرائی نہ کرنے کی وجہ بجٹ کی عدم موجودگی ہے اور محکمہ کی جانب سے ماہانہ 25کروڑ روپئے تک کی اجرائی عمل میں لائی جا رہی ہے جس کی وجہ سے بیشتر درخواستیں زیر التواء ہیں اور عوام کو تکالیف کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ شادی مبارک اسکیم کی درخواستوں کی یکسوئی کے لئے محکمہ اقلیتی بہبود کو 581 کروڑ روپئے درکار ہیں اور یہ رقم نہ ہونے کے سبب عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ علاوہ ازیں حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی اسکالرشپس کیلئے 152کروڑ روپئے درکار ہیں جو کہ حکومت سے جاری نہ کئے جانے کے سبب محکمہ اقلیتی بہبود اقلیتی نوجوانوں کو اسکالرشپس کی اجرائی سے قاصر ہے۔ اس کے علاوہ ریاست میں فیس کی بازادائیگی اسکیم سے استفادہ کرنے والے نوجوان اب فیس کی ادائیگی کا نہیں بلکہ اپنے تعلیمی اسنادات کا انتظار کر رہے ہیں کیونکہ تعلیم ختم ہونے کے باوجود وہ اپنے اسنادات حاصل کرنے سے قاصر ہیں ۔ کالج انتظامیہ حکومت سے فیس موصول نہ ہونے کے سبب ان کے اسناد جاری نہیں کر رہے ہیں جس سے وہ سلسلہ تعلیم کو جاری رکھنے کے موقف میں نہیں ہیں اور نہ ہی کہیں ملازمت اختیار کرنے اسناد بتانے کے موقف میں ہیں۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداراس صورتحال سے مکمل اقف ہیں لیکن کچھ کرنے سے قاصرہیں کیونکہ عہدیداروں کا کہناہے کہ حکومت کو متعدد مرتبہ توجہ دلوائے جانے کے باوجود مسئلہ کو حل نہیں کیا جا رہا ہے۔اقلیتی بہبود کے عہدیداروں نے توثیق کی ہے کہ آرٹی ایف اور ایم ٹی ایف اسکالر شپس و فیس بازادائیگی کیلئے 275 کروڑ روپئے درکار ہیں اور حکومت سے بجٹ جاری نہ کئے جانے کے سبب وہ اس اسکیم کو جاری رکھنے کے موقف میں نہیں ہیں۔ مجموعی اعتبار سے محکمہ اقلیتی بہبود کو 973 کروڑ روپئے جاریہ مالی سال یعنی 2022-23کے دوران جاری کئے گئے لیکن اس میں 501کروڑ روپئے تلنگانہ اقلیتی اقامتی اسکولوں کیلئے ہیں جبکہ دیگر اسکیمات کیلئے محکمہ کے پاس بجٹ موجود نہیں ہے۔ چیف منسٹر اوورسیز اسکالرشپس کے لئے سال 2020 میں منظوری حاصل کرنے والے طلبہ اب تک اپنی اسکالر شپس کی اجرائی کے منتظر ہیں اور انہیں اب تک اسکالر شپس موصول نہیں ہوئی ہیںجو کہ ان کیلئے مشکل صورتحال کا سبب بن رہی ہیں۔م