نئی دہلی : سپریم کورٹ نے ایک فیصلہ میں شادی کے بغیر پیدا ہونے والے بچوں کو بھی باپ کی جائیداد میں حقدار قرار دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگر کوئی عورت اور مرد طویل عرصہ تک ساتھ رہتے ہیں تو اسے شادی سمجھا جائے گا اور اس رشتہ سے پیدا ہونے والے بچوں کو بھی باپ کی جائیداد میں حق ملے گا۔ سپریم کورٹ نے کیرالا ہائیکورٹ کے اس فیصلہ کو منسوخ کردیا جس میں عدالت نے ایک نوجوان کو اس کے والد کی جائیداد میں حصہ دار نہیں سمجھا کیونکہ اس کے والدین کی شادی نہیں ہوئی تھی۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ دونوں نے شادی نہیں کی ہوگی لیکن دونوں طویل عرصہ میاں بیوی کی طرح ساتھ رہے ہیں۔ ایسے میں اگر ڈی این اے ٹسٹ میں یہ ثابت ہوجائے کہ بچہ ان دونوں کا ہے تو بچہ کو باپ کی جائیداد پر پورا حق ہے۔ کیرالا کے ایک شخص نے اپنے والد کی جائیداد کی تقسیم میں حصہ نہ ملنے پر ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کیا تھا ۔ اس نے کہا تھا کہ اسے ناجائز بیٹا کہہ کر حصہ نہیں دیا جارہا ہے۔ کیرالا ہائیکورٹ نے اپنے فیصلہ میں کہا تھا کہ جس شخص سے وہ جائیداد کا تقاضہ کر رہا ہے، اس کی ماں نے اس سے شادی نہیں کی۔ اس صورت میں اسے خاندانی جائیداد کا حقدار نہیں سمجھا جاسکتا۔ 2010 ء میں سپریم کورٹ نے ’’لیو اِن ریلیشن شپ‘‘ (شادی کے بغیر ساتھ رہنا) کو تسلیم کیا ۔ اس کے ساتھ گھریلو تشدد سے متعلق قانون 2005 ء کے سیکشن 2 (ایف) میں بھی لیو اِن ریلیشن کا اضافہ کیا گیا ۔ یعنی شادی کے بغیر ساتھ رہنے والا جوڑا گھریلو تشدد کی رپورٹ بھی درج کراسکتا ہے۔ایسا ہی معاملہ سابق گورنر نارائن دت تیواری کے ساتھ بھی ہوا، جب وہ اترپردیش اور اترکھنڈ کے چیف منسٹر تھے۔