شام کے باغی گروہ کو عالمی برادری سے الگ تھلگ افغان طالبان سے سبق حاصل کرنا چاہیئے :امریکہ

   

واشنگٹن : امریکی سیکریٹری خارجہ انٹونی بلنکن نے شام کے فاتح باغی گروہ ’حیات تحریر الشام‘ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے وعدوں پر پورا اتریں اور کہا ہے کہ وہ افغان طالبان سے سبق حاصل کر سکتے ہیں۔ اے ایف پی کے مطابق حیات تحریر الشام (ایچ ٹی ایس) نے صدر بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد وعدہ کیا تھا کہ وہ اقلیتوں کو تحفظ فراہم کریں گے۔انٹونی بلنکن نے نیو یارک میں ’کاؤنسل آن فارن ریلشنز‘ نامی تھنک ٹینک سے خطاب میں کہا کہ ’طالبان نے افغانستان پر قبضہ کرتے ہوئے معتدل چہرہ پیش کیا تھا یا پیش کرنے کی کوشش کی تھی اور اپنا اصل رنگ بعد میں دکھایا۔ نتیجہ یہ ہے کہ وہ ابھی بھی دنیا میں بری طرح سے تنہائی کا شکار ہیں۔‘امریکی وزیر خارجہ نے باغی گروہ ایچ ٹی ایس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر آپ شام میں ایک ابھرتا ہوا گروہ ہیں، اگر آپ تنہائی نہیں چاہتے تو پھر ملک کو آگے لے کر جانے کے لیے کچھ مخصوص اقدامات کرنا ہوں گے۔‘انٹونی بلنکن نے شام میں ’غیر فرقہ وارانہ‘ حکومت کا مطالبہ کیا جو اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرے، سکیورٹی کے خدشات پر توجہ دے، داعش کے خلاف لڑائی جاری رکھے اور کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیرے کو ہٹانے کا کام جاری رکھے۔
تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے پر 20افراد ہلاک
تونیس سٹی: تیونس میں تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے سے کم از کم 20 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ 5 کو بچالیا گیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ کشتی حادثے میں متعدد افراد لاپتہ ہوگئے ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔تیونس کے کوسٹ گارڈ حکام کے مطابق افریقا سے تعلق رکھنے والے 20 تارکین وطن کی لاشیں برا?مد کرلی گئی ہیں۔حکام کے مطابق کشتی صفاقس شہر کے ساحل کے قریب ڈوبی جو افریقی تارکین وطن کی روانگی کا مقام ہے۔تیونس کے ساحل کے قریب ایک ہفتے کے اندر تارکین وطن کے ڈوبنے کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔