شان رسالت ؐ میں گستاخی کے خلاف حیدرآباد سراپا احتجاج ۔ کئی مقامات پر زبردست مظاہرے

   

مکہ مسجد اور مسجد عزیزیہ کے باہر شدید غم و غصہ کا اظہار ۔ خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ ۔ ہمایوں نگر میں احتجاجیوں پر پولیس کا لاٹھی چارچ۔ ٹی وی ٹاور ‘ چندرائن گٹہ میں بھی احتجاج

حیدرآباد 10 جون (سیاست نیوز) شانِ رسالت ﷺ میں گستاخانہ ریمارکس کے خلاف شہر حیدرآباد میں جمعہ کو زبردست احتجاج کیا گیا۔ تاریخی مکہ مسجد کے باہر بعد نماز جمعہ پہلا احتجاج درج کیا گیا اور احتجاج سارے شہر میں منظم کیا گیا۔ ہمایوں نگر مسجد عزیزیہ کے قریب آج اُس وقت کشیدگی پھیل گئی جب احتجاجی ریالی پر پولیس نے لاٹھی چارج کردیا۔ تفصیلات کے مطابق پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی شانِ اقدس میں گستاخانہ ریمارکس پر بی جے پی کے سابقہ ترجمان نپور شرما، نوین جندال اور اولیائے کرام کی شان میں گستاخی کرنے والے حلقہ گوشہ محل کے رکن اسمبلی راجہ سنگھ کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا۔ تاریخی مکہ مسجد کے باہر بعد نماز جمعہ نوجوانوں کے ایک گروپ نے اچانک احتجاج شروع کردیا جس کے نتیجہ میں وہاں موجود پولیس عملہ چوکس ہوکر احتجاجیوں کو مغلپورہ پانی کی ٹانکی کی سمت بھیج دیا گیا۔ جمعہ کے موقع پر ایران کا ایک وفد بشمول وزیر خارجہ حسین عبدالحیان نماز کی ادائیگی کیلئے مکہ مسجد پہونچے تھے اور اُن کی وہاں سے روانگی کے فوری بعد ہی نوجوانوں نے بی جے پی لیڈرس کے خلاف نعرہ بازی شروع کردی اور سڑک پر بیٹھ گئے۔ یہ احتجاج اختتام کو پہونچا ہی تھا کہ ہمایوں نگر مسجد عزیزیہ کے پاس بعد نماز جمعہ بہت بڑی ریالی نکالی گئی جس میں سینکڑوں کی تعداد میں مسلمانوں نے ہاتھ میں بیانرس اور فلیکس تھامے نپور شرما، نوین جندال، راجہ سنگھ اور دیگر بی جے پی قائدین کے خلاف احتجاج کیا اور اُنھیں سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا۔ احتجاجی مسجد عزیزیہ سے مہدی پٹنم چوراہے کی سمت ریالی کی شکل میں آگے بڑھنے کی کوشش کررہے تھے کہ پولیس نے اُنھیں منتشر کرنے کی کوشش کی اور وہاں دھکم پیل ہونے کے نتیجہ میں پولیس نے اچانک احتجاجیوں پر لاٹھی چارج کردیا۔ حالات کشیدہ ہونے پر مزید پولیس فورس اور ٹاسک فورس عملہ کو وہاں طلب کرلیا گیا۔ مسجد عزیزیہ ہمایوں نگر کے باہر احتجاج میں خواتین کی بھی خاطر خواہ تعداد نے حصہ لیا اور انہوں نے بھی بی جے پی سے خارج شدہ گستاخوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ۔ ان کا اصرار تھا کہ ان گستاخوں کو گرفتار کرتے ہوئے ان کے خلاف مقدمات چلائے جائیں۔ حالانکہ محکمہ انٹلی جنس کو نماز جمعہ کے بعد گستاخانہ ریمارکس کے خلاف احتجاج کی اطلاع تھی لیکن بڑے پیمانے مسلمانوں کے احتجاج سے وہ بھی حیرت زدہ ہوگئے۔ اِسی طرح پرانے شہر کے مسجد سیدنا عمر فاروقؓ چندرائن گٹہ، مسجد قباء وادیٔ مصطفی کے علاوہ کالے پتھر علاقہ میں بھی بی جے پی قائدین کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا۔ نامپلی مسجد گُل بانو کے قریب تحریک اسلامی سنی مرکز کی جانب سے بھی احتجاج کیا گیا۔ شہر کے مختلف مقامات کی طرح ٹی وی ٹاور ملک پیٹ کے پاس بھی مسلمانوں نے گستاخانہ ریمارکس کے خلاف احتجاج منظم کیا اور شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے نعرے لگائے ۔ اس کے علاوہ گستاخی کرنے والے ترجمانوں کی تصاویر کو پیروں سے روندا اور ان کو نذر آتش بھی کیا ۔ جہاں کہیں بھی مسلمانوں نے احتجاج کیا وہ پرامن تھا حالانکہ سینکڑوں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں نوجوانوں اور دوسروں نے احتجاج میں حصہ لیا ۔ ان تمام نے قانون شکنی والا کوئی کام نہیں کیا اور صرف اپنے مجروح جذبات کا اظہار کر رہے تھے ۔ مکہ مسجد چارمینار ‘ مسجد عزیزیہ ہمایوں نگر ‘ چندر ائن گٹہ چوراہا ‘ ٹی وی ٹاور ‘ مسجد گل بانو اور دوسرے مقامات پر احتجاجیوں نے شان رسالت ؐ میں گستاخی کرنے والوں کے خلاف نعرے بازی کی اور کہا کہ حضور اکرم ؐ کی شان میں گستاخی کو مسلمان برداشت نہیںکریں گے ۔ مسلمان اپنی جان بھی قربان کرسکتا ہے اور سب کچھ برداشت کرسکتا ہے لیکن شان رسالت ؐ میں گستاخی کو کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کیا جاسکتا ۔ احتجاجیوں نے مطالبہ کیا کہ حکام کی جانب سے ان گستاخوں کے خلاف سخت ترین دفعات کے تحت مقدمات درج کئے جائیں۔ انہیں گرفتار کیا جائے اور عدالتوں سے انہیں سزائیں دلائی جائیں ۔ شہر کی تقریبا تمام مساجد کے باہر نماز جمعہ سے قبل پولیس کا وسیع تر بندوبست کیا گیا تھا ۔ بھاری پولیس جمیعت کو متعین کردیا گیا تھا اور اضافی دستے طلب کرلئے تھے ۔شہر کے علاوہ محبوبنگر میں مسلمانوں نے زبردست احتجاج منظم کیا ۔ وہاں بھی احتجاجی مسلمانوں نے مظاہرہ کیا اور گستاخوں کے خلاف نعرہ بازی کی ۔ ان کو گرفتار کرنے اور جیل بھیجنے کا بھی مطالبہ کیا ۔ ملک کے شمالی علاقوں میں احتجاج میں تشدد کے بعد سٹی پولیس نے دونوں شہروں میں چوکسی اختیار کرلی تھی اور پولیس گشت میں بھی شدت پیدا کردی گئی۔ شہر کے دیگر علاقوں میں بھی بھاری پولیس فورس کو متعین کردیا گیا تھا۔