نئی دہلی : دہلی کی ایک عدالت نے شرجیل امام کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے۔ شرجیل امام کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور دہلی کے جامعہ علاقہ میں مبینہ اشتعال انگیز تقاریر کا الزام ہے۔ شرجیل امام کو 28 جنوری 2020 ء کو بہار کے جہان آباد سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اپریل 2020 میں دہلی پولیس نے شرجیل امام پر بغاوت کا الزام لگایاتھا۔دہلی پولیس کے مطابق ان کی تقریر سے لوگوں میں بغاوت کیلئے حوصلہ افزائی ہوئی جس کی وجہ سے جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے علاقہ میں فسادات رونما ہوئے۔ دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے اپنی تحقیقات میں پایا کہ شرجیل امام نے جامعہ یونیورسٹی اور علی گڑھ میں مبینہ اشتعال انگیز تقریریں کی تھیں۔ 27 نومبر کوشرجیل امام کو الہ آباد ہائیکورٹ نے جنوری 2019 ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں مبینہ طور پر اشتعال انگیز تقریر کرنے کے الزام میں ان کے خلاف دائر ایک اور مقدمہ کے سلسلے میں ضمانت دی تھی۔اگرچہ اُن کی ضمانت اُس کیس میں منظور ہوئی تھی لیکن دیگر دوسرے کئی الزامات کے تحت وہ عدالتی تحویل میں ہیں ۔ شرجیل امام کی ضمانت کے لئے دی گئی درخواستوں کو کئی مرتبہ مسترد کردیا گیا ۔