پیانگ یانگ : شمالی کوریا کے سربراہ کِم جونگ اْن نے کہا ہے کہ ان کے ملک کا ا?خری ہدف دنیا کا سب سے طاقتور ایٹمی ملک بننا ہے۔خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کِم جونگ اْن نے یہ بات شمالی کوریا کی جانب سے نئے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل ہواسونگ کی تجربے کے موقع پر کی اور کہا تھا کہ وہ امریکی ایٹمی ہتھیاروں کا مقابلہ کریں گے۔شمالی کوریا کے میڈیا کے مطابق سربراہ کِم جونگ اْن نے اتوار کو درجنوں فوجی افسروں کو عہدوں میں ترقی دینے کا بھی اعلان کیا جو ملک کے اس سب سے بڑے میزائل سسٹم کی تیاری میں شامل رہے۔کِم جونگ اْن نے فوجی افسروں کی ترقی کے حکم نامے میں لکھا کہ ایٹمی طاقت کا حصول ریاست اور عوام کے وقار اور ان کی خودمختاری کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہے۔’اس کا حتمی مقصد دنیا کی طاقتور ترین سٹریٹیجک فورس کا قیام ہے۔ ایک ایسی فورس جس کی پوری صدی میں کوئی مثال نہ ملتی ہو۔‘انہوں نے مزید کہا کہ ہواسانک-17 میزائل ’دنیا کا سب سے طاقتور سٹریٹیجک ہتھیار‘ ہے اور یہ شمالی کوریا کی فوج کو دنیا کی بہترین فوج بننے میں مدد دے گا۔