شمس آبادمسجد کے انہدام سے چیف منسٹر دفتر کا تعلق ؟

   

وزیر داخلہ محمود علی نے اچانک اجلاس منسوخ کردیا
حیدرآباد۔/3 اگسٹ، ( سیاست نیوز) وزیر داخلہ محمد محمود علی نے شمس آباد کی مسجد خواجہ محمود کے انہدام کے مسئلہ پر آج شام ریونیو اور پولیس عہدیداروں کا اجلاس طلب کیا تھا لیکن یہ اجلاس اچانک منسوخ کردیا گیا۔ وزیر داخلہ سے مسجد کے انہدام کے مسئلہ پر کل کئی تنظیموں اور مقامی عوام کی جانب سے نمائندگی کی گئی تھی جس پر انہوں نے آج شام 5 بجے ضلع کلکٹر ، پولیس کمشنراور کمشنر بلدیہ کے علاوہ دیگر تمام متعلقہ عہدیداروں کا اجلاس طلب کیا تھا۔ ریونیو عہدیداروں کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ مسجد کی اراضی سے متعلق تمام دستاویزات کے ساتھ حاضر ہوں تاکہ انہدامی کارروائی کی وجوہات کا پتہ چلایا جاسکے۔ وزیر داخلہ کے دفتر سے تمام عہدیداروں کو اجلاس کے بارے میں اطلاع دے دی گئی لیکن آج صبح صورتحال اچانک تبدیل ہوگئی اور اجلاس کی منسوخی کا فیصلہ کرنا پڑا۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کے سی آر کے دفتر سے ہدایت ملنے کے بعد اجلاس منسوخ کردیا گیا۔ ذرائع کے مطابق مسجد کے معاملہ میں وزیر داخلہ کو مداخلت سے یہ کہتے ہوئے روک دیا گیا کہ یہ ایک حساس معاملہ ہے اور ریونیو کا قلمدان چیف منسٹر کے پاس ہے جبکہ بلدی نظم و نسق کے ٹی آر کی وزارت کے تحت ہے لہذا مسجد کے انہدام سے وزارت داخلہ کا کوئی تعلق نہیں سوائے اس کے کہ پولیس نے عہدیداروں کو تحفظ فراہم کیا۔ مسجد کے انہدام کے مسئلہ پر وزیر داخلہ کو جو حکومت اور ٹی آر ایس میں واحد اقلیتی نمائندہ کی حیثیت رکھتے ہیں انہیں اجلاس سے روکنے پر پارٹی میں مختلف چہ میگوئیاں کی جارہی ہیں۔ اقلیتی قائدین کا کہنا ہے کہ مسجد کے انہدام کے معاملہ میں چیف منسٹر دفتر اور وزیر بلدی نظم و نسق کا راست تعلق ہوسکتا ہے لہذا محمود علی کو اس معاملہ میں مداخلت سے روک دیا گیا۔ ر