شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس، مودی کی سمرقندآمد

,

   

آج عالمی قائدین سے ملاقات ،باہمی امور پر تبادلہ خیال متوقع

نئی دہلی :وزیر اعظم نریندر مودی آج ازبکستان کے لئے روانہ ہو گئے۔ روانگی کے وقت انہوں نے اپنے بیان میں کہا ’’میں صدر ازبکستان شوکت میرضیایف کی دعوت پر شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن (ایس سی او) کے ملکی سربرہان کے اجلاس میں شرکت کے لئے سمرقند کے دورے پر روانہ ہو رہا ہوں۔ سمرقند پہنچنے پر ازبکستان کے وزیراعظم عبداللہ عاریف اور کئی وزراء نے وزیراعظم مودی کا استقبال کیا۔شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس ازبکستان کے شہر سمر قند میں 15 ستمبر سے شروع ہو رہا ہے، پاکستان، ہندوستان، چین، روس اور دیگر رکن ممالک کے سر براہ اس اجلاس میں شریک ہوں گے۔ وزیراعظم مودی شنگھائی تعاون تنظیم کے 22ویں سربراہی اجلاس کے دوران دیگر رکن ممالک کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کریں گے۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ دیگر اراکین سربراہی اجلاس کے دوران رہنماؤں کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے۔خارجہ سکریٹری، ونے کواترا نے کہا کہ میزبان ملک کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کے علاوہ، وزیر اعظم دوسرے رہنماؤں کے ساتھ بھی دو طرفہ بات چیت کریں گے۔ مودی جمعہ کو چوٹی کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ توقع ہے کہ وہ سمرقند میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقع پر روس کے صدر ولادیمیر پوتن، ایرانی صدر ابراہیم رئیسی اور ازبکستان کے صدر شوکت مرزیویف سے دو طرفہ ملاقات کریں گے۔شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے دوران، مودی اور روسی صدر اقوام متحدہ اور جی 20 کے اندر روس۔ہندوستان تعاون پر تبادلہ خیال کریں گے۔خارجہ سکریٹری نے کہا کہ ازبکستان کے صدر شوکت مرزیوئیف کی دعوت پر، وزیر اعظم مودی سمرقند کا 24 گھنٹے کا دورہ کریں گے۔ کل صبح سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ سربراہی اجلاس عام طور پر 2 سیشنوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ایک محدود سیشن، صرف شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کیلئے، اور پھر ایک توسیعی اجلاس جس میں مبصرین اور خصوصی مدعو افراد شامل ہوں گے۔