شہریت ترمیمی قانون کا نفاذ آگ سے کھیلنے کے مترادف: ای ٹی محمد بشیر

   

ملک میں مسلمان مظالم کا شکار، لوک سبھا میں مسلم لیگ رکن کی تقریر
حیدرآباد۔/6 فروری، ( سیاست نیوز) انڈین یونین مسلم لیگ کے رکن پارلیمنٹ ای ٹی بشیر نے مرکزی حکومت کو انتباہ دیا کہ شہریت ترمیمی قانون سی اے اے کے نفاذ کے ذریعہ ملک میں بدامنی پھیلانے کی کوشش نہ کرے۔ حلقہ پینانی کی نمائندگی کرنے والے ای ٹی محمد بشیر نے صدر جمہوریہ کے خطبہ پر تحریک تشکر پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ شہریت ترمیمی قانون پر عمل آوری آگ سے کھیلنے کے مترادف ہوگی۔ صدر جمہوریہ نے پارلیمنٹ میں تعمیری مباحث اور عوام کے حق میں پالیسیاں تیار کرنے کا مشورہ دیا لیکن پارلیمنٹ میں اس کے برخلاف عمل ہورہا ہے۔ منتخب عوامی نمائندوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ حکومت پر تنقید کرنے والے قائدین کی آواز دبانے کیلئے ان کے خلاف مقدمات درج کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں تنقید کی اجازت ہونی چاہیئے لیکن مودی حکومت کو تنقید برداشت نہیں ہے۔ آزادی کے 75 سال بعد بھی اقلیتیں بالخصوص مسلمان اذیت کا شکار ہیں۔ اقلیتوں کے خلاف مظالم کے موجودہ واقعات ملک کی تاریخ میں کبھی پیش نہیں آئے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کے تحفظ سے متعلق دستوری ذمہ داری کی تکمیل کرنا مودی حکومت کا فرض ہے۔ مسلم لیگ کے رکن نے کہا کہ مودی حکومت نے غریبوں، کسانوں اور کمزور طبقات پر کارپوریٹ گھرانوں کو ترجیح دی ہے۔ سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ محض دکھاوا بن چکا ہے۔ ای ٹی محمد بشیر نے کہا کہ ملک میں جمہوری ادارے خطرہ میں ہیں اور آزادی صحافت کو کچلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بابری مسجد کے بعد گیان واپی مسجد کا مسئلہ اٹھایا گیا۔ دہلی میں 800 سالہ قدیم مسجد منہدم کردی گئی اس طرح کے واقعات سے دنیا میں ہندوستان کی ساکھ متاثر ہوگی۔ ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق میں سی اے اے کے خلاف ملک گیر سطح پر احتجاج منظم کیا گیا۔ نت نئے قوانین کے ذریعہ مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی کوششیں افسوسناک ہیں۔ 1