روش کمار
فی الوقت سارے ملک میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ آخر شہریت کی دستاویز کیا ہے؟ اگر پاسپورٹ نہیں ہے، آدھار کارڈ بھی شہریت کی دستاویز نہیں ہے، راشن کارڈ نہیں، ووٹر شناختی کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس بھی شہریت کی دستاویز نہیں، زمین کی خریدی کا ریکارڈ نہیں، پیان کارڈ نہیں، بینک کی پاس بُک نہیں تب پھر شہریت کی دستاویز کیا ہے؟ حکومت ایک بار میں اِس بات کا جواب دے کہ کیوں یہ بحث بار بار چھیڑی جاتی ہے۔ شہریت پر اتنے خدشات، اتنے سوال تو 1947ء سے 1950ء کے درمیان بھی نہیں ہوئے ہوں گے جتنے آج کل ہورہے ہیں۔ حالت یہ نہ ہوجائے کہ شادی کرتے وقت شہریت کی دستاویز پوچھی جائے۔ ٹرین میں سفر کرتے ہوئے لوگ بازو بیٹھے مسافر سے پوچھیں کہ آپ ہندوستانی ہیں تو شہریت کی دستاویز دکھایئے، لوگ جھگڑا کریں گے تو دھمکی دیں گے کہ تمہاری شہریت ختم کروادوں گا۔ اس پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سے پہلے اب ایک اور سوال بہت بڑا ہوگیا ہے۔ ہندوستانی ہونا بڑا ہے، شہری ہونا بڑا ہے یا بااحترام ہونا بڑا ہے؟ ہندوستان کے شہری تو ملک کے دستور سے قانون سے چلتے ہیں لیکن جو قابل احترام ہے کیا وہ کسی قانون کے دائرہ میں آتے ہیں۔ چمپت رائے قابل احترام ہیں غلط کرنے والوں کو سزا ملے گی۔ یوپی کے ڈپٹی چیف منسٹر کیشو موریہ کا بیان شائع ہوا ہے۔ ہندوستانی ہوکر آپ ہر وقت ڈرائے جارہے ہیں۔ یہ دستاویز نہیں ہے، وہ دستاویز نہیں ہے اور یہاں بااحترام ہوکر کسی کو بچایا جارہا ہے کہ رام مندر میں اس قدر لوٹ مار مچی، ڈکیتی ہوئی پھر بھی جوابدہی ان کی نہیں ہے کیوں کہ وہ قابل احترام ہیں اور 7 جون کو معاملہ سامنا آیا، ایس آئی ٹی کی رپورٹ بھی جمع ہوگئی مگر ابھی تک ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کیا اسی لئے کہ چمپت رائے قابل احترام ہیں؟ کونسا نیا زمرہ ہے۔ چمپت رائے شری رام جنم بھومی تیرتھ شیتر ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری بنائے گئے۔ ٹرسٹ کا قیام سپریم کورٹ کے حکم سے ہوا۔ حکومت ہند نے یہ ٹرسٹ تشکیل دیا۔ وزارت داخلہ نے نوٹیفکیشن جاری کیا تو ظاہر ہے جنرل سکریٹری کی ذمہ داری بھی قانون کے دائرہ میں آتی ہے۔ وہ جنرل سکریٹری ہیں یہ بھی قانون سے طے ہوا نہ کہ ان کے قابل احترام ہونے کی بنیاد پر۔ کیا ہندوستان میں بی جے پی کا حامی اور قابل احترام ہونا نئی شہریت ہے اور جو شہری ہے اس کی شہریت کا ثبوت کیا ہے، اس کا قابل احترام ہونا یا ہندوستانی ہونا۔ آپ بیرون ملک میں ہیں تو پاسپورٹ آپ کے ہندوستانی ہونے کا ثبوت مانا جاتا ہے۔ لیکن آپ کی شہریت کی دستاویز نہیں، کوئی کہیں سے اُٹھتا ہے اور کھڑا ہوکر کہہ دیتا ہے کہ فلاں دستاویز شہریت کا ثبوت نہیں، کبھی اس کا ٹھیکہ الیکشن کمیشن آف انڈیا لے لیتا ہے، کبھی مرکزی وزارت خارجہ لے لیتا ہے اور کبھی کوئی اور وزارت۔ سبھی یہی کہتے ہیں کہ قانونی لحاظ سے صحیح کہا جارہا ہے لیکن اس کا اثر جو معاشرہ پر ہورہا ہے لوگوں کے درمیان عدم تحفظ کا احساس اور بے چینی پھیل رہی ہے، انتظامیہ کو انھیں ستانے کی چھوٹ مل رہی ہے اُس کا کیا، کیوں بار بار کبھی بھی اس ملک میں شہریت کو لے کر بحث چھیڑ رہی ہے۔ دی ہندو کے صحافی نے مرکزی وزارت خارجہ کے عہدیدار سے پوچھا کہ ایس آئی آر کے دوران نام حذف ہوگیا تو کیا اسے چیلنج کرنے کیلئے ہندوستانی پاسپورٹ کا استعمال ہوسکتا ہے۔ اُس کے جواب میں سینئر عہدیدار نے کہاکہ پاسپورٹ تو سفری دستاویز ہے، شہریت کا ثبوت نہیں۔ 140 کروڑ کی آبادی والے ملک میں 10 کروڑ لوگوں کے پاس ہی پاسپورٹس ہیں۔ پاسپورٹ بنوانے کے لئے برتھ سرٹیفکٹ، آدھار کارڈ مقامی ایڈریس کا ثبوت وغیرہ وغیرہ دینا پڑتا۔ اگر کسی نے برتھ سرٹیفکٹ سے مقام پیدائش کی جانکاری سے پاسپورٹ بنوایا ہے تب وہ کیسے شہری نہیں ہے۔ ہندوستان کا پاسپورٹ اسی کو ملتا ہے جو ہندوستانی شہری ہے۔ پاسپورٹ بنانے سے پہلے پولیس جانچ کرتی ہے۔ پاسپورٹ بنانے والا ہندوستانی ہے اور اپنے بارے میں درست معلومات فراہم کررہا ہے۔ پولیس کس بنیاد پر جانچ کررہی ہے، اس کی جانچ کے بعد ہی تو پاسپورٹ بنتا ہے تب کیا اس کی اتنی بھی اہمیت نہیں۔ اگر پاسپورٹ صرف سفری دستاویز ہے تو کیا حکومت ہند کسی دوسرے ملک کے شہری کو بھی اپنا پاسپورٹ جاری کرتی ہے۔ اس سے تو دوسرے ملکوں میں شک ہوگا کہ جو ہندوستان کا پاسپورٹ لے کر آرہا ہے وہ ہندوستانی کا شہری ہے بھی یا نہیں۔ جب ہم بیرون ملک میں ہوتے ہیں تو اپنا برتھ سرٹیفکٹ لے کر کہیں گھوم رہے ہوتے، کوئی ہندوستانی بیرونی ملک میں پھنس جائے تو حکومت ہند بھی اس کا پاسپورٹ دیکھ کر مدد کرتی ہے یا پھر بیرونی ملکوں میں پھنسے ہندوستانی شہریوں سے کہا جائے کہ پہلے آپ شہریت ثابت کیجئے تب ہی حکومت مدد کرے گی۔ اگست 2025ء میں سی پی آئی ایم ایل کے رکن پارلیمنٹ سداما پرساد لوک سبھا میں شہریت کو لے کر حکومت سے کئی معلومات طلب کی اور پوچھا کہ بتایئے کہ پچھلے 25 برسوں میں کتنے لوگوں کے برتھ سرٹیفکٹس بنائے گئے۔ کیا حکومت کے پاس بھی رپورٹ ہے کہ کن کن ریاستوں میں برتھ سرٹیفکٹس اور ڈیتھ سرٹیفکٹس کم کہاں بنائے گئے اور زیادہ کہاں بنائے گئے۔ جواب میں وزیر نتنیانند رائے نے چار زمروں کا ذکر کیا جس کی بنیاد پر شہریت طے ہوتی ہے۔ انھوں نے ریاستی سطح پر برتھ سرٹیفکٹ سے متعلق اعداد و شمار دیئے مگر سداما پرشاد نے جو سوال پوچھا تھا کہ کتنا برتھ سرٹیفکٹس لوگوں نے بنائے ہیں اس کا صحیح جواب نہیں تھا۔ وزیر موصوف کے تحریری جواب میں بس اتنا ہی لکھا ہے کہ ہندوستان کا قانون شہریت 1955 کہتا ہے جس کے تحت بنے اُصول و قواعد کی بنیاد پر شہریت طے ہوتی ہے۔ قانون شہریت 1995ء کے تحت پیدائش فعہ 3 ، حسب نسب دفعہ 4، رجسٹریشن دفعہ 5، نیچرالائزیشن دفعہ 6 یا کسی علاقہ کو شامل کرنے دفعہ 7 کے ذریعہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اس جواب میں کسی دستاویز کی بات حکومت نے نہیں کی، نام تک نہیں لیا۔ 13 اگست 2025ء کو انگریزی کے موقر روزنامہ دی ہندو میں ایک رپورٹ شائع ہوتی ہے جس میں لکھا گیا کہ حکومت دستاویز کا نام لینے سے بچ گئی کہ شہریت ثابت کرنے کے لئے کس طرح کے خاص دستاویزات کی ضرورت ہے۔ حکومت کو بھی شائد نہ معلوم ہو کہ شہریت کے لئے کونسی دستاویز مانگے مگر بیان دینے سے کسی کی شہریت پر سوال اُٹھانے سے کوئی بھی پیچھے نہیں ہٹ رہا ہے نہ وزیراعظم نہ وزیرداخلہ۔ ملک میں 2020ء کے اعداد و شمار کے مطابق 5 سال سے کم عمر کے 38 فیصد بچوں کے پاس صداقت نامہ پیدائش نہیں ہے۔ ایسے ملک میں صداقت نامہ پیدائش کیسے مانگ سکتے ہیں۔ کتنے ہی لوگوں کے پاس برتھ سرٹیفکٹس نہیں ہوں گے، ان کے ماں باپ کے بھی نہیں ہوں گے۔ اگر اسی بنیاد پر چیکنگ شروع ہوجائے تو کروڑوں لوگوں کی شہریت آج خطرہ میں پڑجائے گی۔ انڈین سٹیزن شپ آن لائن پورٹل پر جاکر دیکھا کہ اگر کوئی بیرونی شہری نہیں ہے اسے اپنی شہریت ثابت کرنے کے لئے یا شہریت کا سرٹیفکٹ پانے کے لئے کس طرح کے کاغذات دینے ہوں گے، اس میں ہمیں کئی طرح کے زمروں کے تحت درخواست دینے کے فارمس ملے سبھی کے تعلق ان سے ہے جو دوسرے ملک کی شہریت چھوڑ کر ہندوستانی شہریت لینا چاہتے ہیں۔ CAA کے تحت درخواست دینے کے خواہاں ہیں لیکن اگر آپ ہندوستانی ہیں ہندوستان میں رہتے ہیں اپنا صداقت نامہ پیدائش دے کر شہریت کا ثبوت پانے کی کوشش کریں گے تو اس ویب سائٹ پر آپ کے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔ اسی طرح کچھ اور پہلوؤں کے بارے میں معلومات ہندوستان ٹائمز کے اتشکر آنند کی رپورٹ سے ملتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندوستان کا قانون اس بات پر چلتا ہے کہ زیادہ تر لوگ ہندوستان کے شہری ہیں جب تک کہ ان کی شہریت کو لے کر سوال نہیں اٹھاتا۔ شہریت کو ثابت کرنے کے لئے کوئی ایک کاغذ اس ملک میں لازمی نہیں ہے۔ 2020ء میں جب حکومت سے پوچھا گیا کہ آیا آدھار، پاسپورٹ، ووٹر شناختی کارڈ، پیان کارڈ یا برتھ سرٹیفکٹ میں سے کس کو شہریت ثابت کرنے کے لئے استعمال کیا جائے تو وزارت داخلہ نے حامی بھرنے سے انکار کردیا۔ کسی بھی دستاویز کو شہریت کا ثبوت ماننے سے منع کردیا کہہ دیا شہریت کا ثبوت قانون شہریت کے تحت ہوتا ہے۔