ناخواندہ اور بھولی بھالی عوام شکار ، پولیس کو سخت کارروائی کرنے کی ضرورت
حیدرآباد۔25۔مئی (سیاست نیوز) دونوں شہروں میں جادوگروں اور عاملوں کی سرگرمیوں میں تشویشناک حد تک اضافہ ہونے لگا ہے اور اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنے والے اس مشرکانہ اور کفریہ عمل میں لوگوں کے ملوث ہونے کے معاملات میں ہورہے اضافہ کے متعلق کہا جا رہاہے کہ دین سے دوری ‘حسد ‘ جلن کے سبب لوگوں کو تکالیف میں مبتلاء کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ سابق میں محکمہ پولیس کی جانب سے جادوگروں اور عاملوں کے خلاف کی جانے والی کاروائی کے بعد شہر کے بیشتر علاقوں سے جادوگر اور عامل غائب ہوچکے تھے لیکن اب دوبارہ شہر کے سلم علاقوں میں ایسے جادوگر اور عامل اپنی سرگرمیوں کا آغاز کرچکے ہیں جہاں کم تعلیم یافتہ لوگ رہتے ہیں۔ ان جادوگروں کی سرگرمیوں کے متعلق محلہ کے عوام کہنا ہے کہ وہ ان سے الجھنے سے خوف کے سبب کتراتے ہیں کیونکہ ان کے مطابق یہ جادوگر انہیں خوفزدہ کرنے کی کوشش کر تے ہیں ۔ شہر کی سلم آبادیوں میں جادوگروں کی ان سرگرمیوں کو روکنے کے لئے فوری طور پر شہریوں میں شعور بیداری کے علاوہ ان جادوگروں کے خلاف کاروائی کے اقدامات کیا جانا ناگزیر ہوچکا ہے ۔اسلام میں توہم پرستی کی کوئی گنجائش نہیں ہے لیکن اس کے باوجود کم عقل اور غیر تعلیم یافتہ لوگوں میں توہم پرستی کو فروغ دیتے ہوئے یہ جادوگر اپنے کاروبار چلارہے ہیں اور ان کے پاس آنے والوں کو دانستہ یا نا دانستہ طور پر مشرکانہ اعمال میں مبتلاء کر رہے ہیں۔ پرانے شہر میں محکمہ پولیس کی جانب سے کی گئی کاروائیوں کے دوران اس بات کا انکشاف ہوا تھا کہ کئی مسلم خواتین غیر مسلم جادوگروں کے پاس جاتے ہوئے اپنے ایمان کو غارت کر رہی ہیں اور اس سلسلہ میں مسلسل خبروں کی اشاعت اور ویڈیوز کے منظر عام پر آنے کے بعد اس پر کچھ حد تک روک لگانے میں کامیابی ہوئی تھی لیکن اب دوبارہ مسلم برقعہ پوش خواتین کے ہجوم ان جادوگروں کے پاس نظر آنے لگے ہیں جو کہ ایمان پر حملہ کرنے والے ہیں۔ محلہ واری سطح پر مساجد کے علاوہ ذمہ داران کی جانب سے اگر اس طرح کی سرگرمیوں پر نظر رکھتے ہوئے ان کے خاتمہ کے لئے اقدامات کئے جاتے ہیں اورپولیس کی مدد طلب کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں شہر حیدرآباد سے اس لعنت کا خاتمہ کیاجاسکتا ہے جس کا شکار سماج کا بڑا حصہ ہونے لگا ہے۔ جادوگروں اور عاملوں کی بڑی تعداد سلم علاقوں اور گنجان آبادیوں کا رخ کرتے ہوئے عوام کو ان کے بنیادی مسائل پر اپنے چکنی چپڑی باتو ںکا شکار بناتے ہوئے توہم پرستی میں مبتلاء کرتے ہوئے ان کا استحصال کرنے لگتی ہے لیکن کم تعلیم یافتہ یا غیر تعلیم یافتہ لوگوں کو یہ بات سمجھ میں آئے اس وقت تک وہ کافی کچھ لٹا چکے ہوتے ہیں۔ شہر سے اس لعنت کے خاتمہ اور شہریوں کے ایمان کی حفاظت کے لئے آئمہ اکرام اور خطیب حضرات کو اس سنگین مسئلہ پر عوام میں شعور بیدار کرنے کیلئے فوری طور پر سرگرم ہونے کی ضرورت ہے اور عوام کو اس بات کا احساس پیدا کرنا ضروری ہے کہ ان کے اس عمل کے سبب وہ کس حد تک گنہگار ہورہے ہیں ۔م