شہر میں محکمہ آبرسانی کے ترقیاتی کام ادھورے

   

عوام سے متعدد شکایتیں ، گتہ دار ، ٹھیکہ داروں اور عہدیداروں کے درمیان سازباز
حیدرآباد۔ 5۔مارچ۔(سیاست نیوز) دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد کے بیشتر علاقو ںمیں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآبادکے علاوہ محکمہ آبرسانی کے ذریعہ انجام دیئے جانے والے کاموں میں ہونے والی تاخیر کے نتیجہ میں عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جبکہ ان ترقیاتی ‘ مرمتی کاموں کو مکمل کرنے کے لئے جو وقت کا تعین کیا گیا ہے اس وقت کو گذرے ہوئے کافی عرصہ گذر چکا ہے لیکن اس کے باوجود ان کاموں کو مکمل کرنے میں کی جانے والی کوتاہی کے خلاف کاروائی کے لئے کوئی عہدیدار تیار نہیں ہیں جبکہ متعلقہ عہدیداروں سے ان کاموں کی عدم تکمیل کے سلسلہ میں متعدد شکایات کی جا رہی ہیں لیکن اس کے باوجود گتہ داروں ‘ ٹھیکہ داروں اور عہدیداروں کے درمیان موجود ساز باز کے نتیجہ میں کاموں کی تکمیل میں ہونے والی تاخیر کے باوجود کوئی کاروائی نہیں کی جا رہی ہے بلکہ کاروائی سے گریز کے ذریعہ عوام کو تکالیف میں مبتلاء رکھا جا رہاہے۔دونوں شہروں کے کئی مقامات خواہ نیا شہر ہویا پرانا شہر کے حلقہ جات اسمبلی تمام مقامات پر کاموں کی تکمیل میں ہونے والی تاخیر اور سڑکوں کی کھدائی کرنے کے بعد ادھورے کام چھوڑ دیئے جانے کی شکایا ت موصول ہورہی ہیں۔ جن علاقوں میں ترقیاتی کاموں کو شروع ہوئے 6ماہ سے زائد کا عرصہ گذر چکا ہے ان علاقوں میں عوام کی جانب سے عہدیداروں اور متعلقہ ٹھیکہ داروں سے مسلسل شکایات کی جا رہی ہیں لیکن ان شکایات کے باوجود کوئی کاروائی نہ کئے جانے کے نتیجہ میں عوام میں مایوسی پائی جانے لگی ہے۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد ‘ محکمہ آبرسانی کے علاوہ دیگر متعلقہ محکمہ جات کے عہدیدار جو ان ترقیاتی کاموں کے نگران ہیں ان کے اور ٹھیکہ داروں کے درمیان موجود ساز باز کے نتیجہ میں ان ٹھیکہ داروں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جار ہی ہے جو ترقیاتی کاموں میں کئی ماہ کی تاخیر کے مرتکب ہورہے ہیں۔ ترقیاتی کاموں کے آغاز کے بعد متعلقہ عوامی نمائندوں کی جانب سے تیزرفتار تکمیل کے سلسلہ میں یقین دہانی کے باوجود کاموں کی تکمیل میں ہونے والی تاخیر کے متعلق منتخبہ عوامی نمائندوں کو متوجہ کروانے پر کہا جا رہا ہے کہ وہ عہدیداروں اور ٹھیکہ داروں کو ہدایت دے رہے ہیں لیکن ان منتخبہ عوامی نمائندوں کی ہدایات کا کوئی اثر عہدیدارو ںاور ٹھیکہ داروں پر نہ ہونے کی وجوہات کا اندازہ لگانا مشکل ہوتا جا رہاہے کیونکہ عام طور پر عوامی نمائندوں کی جانب سے جاری کی جانے والی ہدایات پر عمل آوری میں کسی بھی طرح کی کوتاہی سے گریز کیاجاتاتھا لیکن اب ویسی صورتحال نہیں رہی اور عوامی نمائندوں کی ہدایات کو بھی نظرانداز کیا جانے لگا ہے۔3