حیدرآباد ۔ 2 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : شہر میں گرما میں پانی کا بحران شروع ہوچکا ہے ۔ جس کا خانگی ٹینکرس مالکان فائدہ اٹھاکر دوگنی قیمت وصول کررہے ہیں ۔ موسم گرما میں جیسے جیسے شدت پیدا ہورہی ہے ویسے ہی زیر زمین پانی کی سطح میں کمی ہورہی ہے ۔ جس سے خانگی پانی کے ٹینکرس کی مانگ میں اضافہ ہورہا ہے ۔ واٹر بورڈ سے چلائے جارہے ٹینکرس موسم گرما میں ناکافی ہورہے ہیں ۔ خانگی آپریٹرس کا کہنا ہے کہ وہ پانچ سے چھ ٹینکرس ایک سے زائد شفٹوں میں ہر روز حیدرآباد میں خاص کر شہر کے مغربی اور وسطی حصوں میں بھیج رہے ہیں ۔ کنڈہ پور ، مادھا پور ، ہائی ٹیک سٹی ، گچی باولی و اطراف سے روزانہ 10 تا 15 کالز ٹینکرس کیلئے آرہے ہیں ۔ جاریہ سال کالز میں اضافہ ہوا ہے ۔ جس میں چار سے پانچ کالز ریگولر گراہک کے ہوتے ہیں ۔ سات تا آٹھ کالز نئے ہوتے ہیں پچھلے دو ہفتوں میں رہائشی کالونیوں میں ٹینکروں کے ذریعہ تقریبا 80 ہزار سے 90 ہزار لیٹر پانی فراہم کیا جارہا ہے ۔ خانگی آپریٹرز 25 ہزار لیٹر پانی کیلئے 3500 سے 4000 روپئے وصول کئے جارہے ہیں جبکہ دس ہزار لیٹر پانی کیلئے 1500 سے 2000 روپئے حاصل کئے جارہے ہیں ۔ ہفتہ میں چار تا پانچ ٹینکرس منگوائے جارہے ہیں حالانکہ واٹر ورکس سے پانی سربراہ کیا جارہا ہے جو ناکافی ہورہا ہے ۔ 1200 میٹر تک بورویل کے باوجود وہ سوکھ چکے ہیں ۔ ٹینکرس کیلئے ڈھائی ہزار روپئے خرچ کئے جارہے ہیں ۔ مئی اور جون میں یہ رقم تین ہزار تک پہنچ جانے کا امکان ہے ۔ش