چیف منسٹر ریونت ریڈی کا جائزہ اجلاس۔ عوام کو مسائل سے بچانے کے اقدام کا مشورہ
حیدرآباد۔22فروری(سیاست نیوز) موسم گرما میںشہر حیدرآباد کے حدود میں پینے کے پانی کے مسائل پیدا نہ ہوں اس کیلئے جی ایچ ایم سی اور آبرسانی کے عہدیدار جامع منصوبہ پر عمل کو یقینی بنائیں ۔ محکمہ پولیس موسم گرما میںشہر میں پینے کے پانی کے ٹینکرس کی حمل ونقل میں کسی بھی طرح کی رکاوٹ پیدا نہ کرے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے آج ریاست میں پینے کے پانی کی سربراہی و موسم گرما میں کسی بھی طرح کی قلت پیدا نہ ہواس کیلئے جائزہ اجلاس منعقد کرکے یہ ہدایات جاری کی۔ چیف منسٹر نے عہدیدارو ںکو ہدایت دی کہ وہ ریاست کے تمام اضلاع اور دیہی علاقوں میں پینے کے پانی کی سربراہی کو بہتر بنانے اقدامات کریں اور کرشنا ریور مینجمنٹ بورڈ کو مکتوب روانہ کرکے پینے کے پانی کی سربراہی کیلئے درکار پانی کی تفصیلات روانہ کریں۔ انہو ںنے بتایا کہ حکومت سے ضرورت پڑنے پر کرناٹک سے پانی حاصل کرنے اقدامات کئے جائیں گے ۔ اجلاس میں وزراء کیپٹن اتم کمار ریڈی ‘ پی سرینواس ریڈی کے علاوہ محکمہ بلدی نظم و نسق کے علاوہ محکمہ پنچایت راج کے اعلیٰ عہدیدار موجود تھے۔ اجلاس میںناگرجنا ساگر‘ سری سیلم پراجکٹ کے علاوہ دیگر پراجکٹس سے حاصل کئے جانے والے پانی کی تفصیلات سے واقفیت حاصل کرنے کے بعد چیف منسٹر نے عہدیدار وںکو ہدایت دی کہ وہ اس خصوص میں تمام تفصیلات حکومت کو پیش کریں تاکہ حکومت سے پڑوسی ریاستوں سے رابطہ کرکے ریاست میں موسم گرما میںپینے کے پانی کی قلت سے نمٹنے اقدامات کئے جاسکیں۔ چیف منسٹر نے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں پانی کے مسائل کے متعلق دریافت کیا جس پر عہدیداروں نے انہیں بتایا کہ اگر شہر میں پینے کے پانی کی قلت کا مسئلہ درپیش ہوتا ہے تو میں یلم پلی اور ناگرجنا ساگر سے پانی لانے اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔ عہدیدارو ںکے مطابق موسم گرما میںشہر میں پانی کے مسائل پیدا ہونے کے امکانات کم ہیں لیکن اگر ایسی صورتحال پیدا ہوتی بھی ہے تو متبادل انتظامات کو یقینی بنایا جائے گا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح پینے کے پانی کی سربراہی ہے اور موسم گرما میںپانی کی سربراہی میں کسی بھی طرح کی دشواریوں کو برداشت نہیں کیا جائیگا اسی لئے عہدیداروں کو چاہئے کہ وہ کسی بھی طرح کے امکانی خدشات سے شہریوں کو محفوظ رکھنے کے لئے موثر اقدامات کریں۔3