حیدرآباد۔ شہر کیلئے 2013 سے قبل تیار 5مختلف ماسٹر پلان کو یکجا کرکے ایک ماسٹر پلان کی تیاری کیلئے 4برسوں سے جاری کوششیں ناکام ہوچکی ہیں ۔ اب
حکومت کی جانب سے شہرکی ترقی کیلئے نیا ماسٹر پلان تیار کیا جائیگا اور آئندہ 5برسوں کے دوران منصوبہ حکومت کو پیش کردیا جائیگا۔ سال 2013 سے قبل جو ماسٹر پلان تیار کئے گئے تھے ان کے مطابق حکومت کی جانب سے ترقی کیلئے مختلف منصوبوں کی تیاری عمل میں لائی گئی تھی اور اس میں سب سے زیادہ اہم ماسٹر پلان 2031 تھا لیکن 2014میں آندھراپردیش کی تقسیم اور تشکیل تلنگانہ کے بعد تمام5 ماسٹر پلانس کا جائزہ لیا گیا اور چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے ہدایت دی تھی کہ ان تمام 5ماسٹر پلانس کو یکجا کرنے کی کوشش کی جائے اور ایک دوسرے سے ٹکرانے والے منصوبوں کو خارج کیا جائے ۔ 4سال تک کوشش کے باوجود ان تمام پلانس کو یکجا کرنے میں کامیابی نہیں ہوئی اور اس کا جائزہ لینے والی کمپنی نے حیدرآباد میٹروپولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کو رپورٹ حوالہ کرکے کہہ دیا کہ نیا منصوبہ تیار کرنا ناممکن ہے۔ ذرائع کے مطابق ان رپورٹس سے حکام نے وزیر بلدی نظم و نسق کو واقف کروادیا ہے ۔ کے ٹی آر نے ہدایت دی کہ وہ تمام ماسٹر پلانس کو نظر میں رکھ کر ایسا ماسٹر پلان تیار کریں جو کہ آئندہ 50 برسوں کیلئے شہر کی ترقی اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے علاوہ پانی کے اخراج و نکاسی کے علاوہ زمین کو سیر آب رکھنے میں معاون ثابت ہو۔