شہر کے مضافات فتح اللہ گوڑہ کا قبرستان مذہبی ہم آہنگی کی علامت

   


ایک ہی مقام پر ہندو ، مسلم ، عیسائی مذاہب کے ماننے والوں کو تدفین اور آخری رسومات کی سہولت
حیدرآباد ۔ 6 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : شہر حیدرآباد کے ایل بی نگر میں فتح اللہ گوڑہ کا قبرستان مذہبی ہم آہنگی کی علامت میں تبدیل ہوگیا ہے ۔ جہاں ایک ہی مقام پر ہندو ، مسلم اور عیسائی مذاہب کے ماننے والوں کے لیے تجہیز و تدفین اور آخری رسومات کی انجام دہی کے لیے حکومت کی جانب سے بڑے پیمانے پر انتظامات کئے گئے ہیں ۔ شہر حیدرآباد ، سارے ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی شناخت رکھتا ہے ۔ نظریاتی اختلافات کے باوجود ، ہندو ۔ مسلم ۔ سکھ ، عیسائی اور دیگر طبقات کے افراد شیر و شکر کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ مل کر رہتے ہیں اور ایک دوسرے کی عید و تہوار ، شادی بیاہ کے علاوہ دوسری تقاریب میں شریک ہوتے ہیں ۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد چیف منسٹر کے سی آر نے ریاست میں گنگا جمنی تہذیب کو فروغ دینے کا اعلان کیا ۔ ساتھ ہی تہواروں اور عیدوں کو سرکاری طور پر منایا جارہا ہے ۔ نو تعمیر شدہ سکریٹریٹ میں مساجد ، مندر اور گرجا گھر تعمیر کئے جارہے ہیں ۔ ساتھ ہی مرنے کے بعد بھی تمام طبقات میں اتحاد کا ثبوت فراہم کرنے کے لیے ایک ہی مقام پر تین مذاہب کے ماننے والوں کے لیے قبرستان اور شمشان گھاٹ کا انتظام کیا گیا ہے ۔ سارے ملک میں فرقہ پرستی کو ایک منظم سازش کے تحت فروغ دیا جارہا ہے ۔ مگر شہر کے ایل بی نگر کا فتح اللہ گوڑہ کا یہ مرکز مذہبی ہم آہنگی کی علامت بن گیا ہے ۔ جہاں پر ہندو ۔ مسلم اور عیسائیوں کی تدفین اور آخری رسومات انجام دینے کی سہولت فراہم کی گئی ہے ۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے حدود میں ایک اندازے کے مطابق روزانہ ڈھائی ہزار سے زائد لوگوں کی مختلف وجوہات سے موت واقع ہوتی ہے ۔ ان کی تدفین اور آخری رسومات کے لیے ان کے افراد کو کئی دشواریاں پیش آرہی ہیں جس کا جائزہ لینے کے بعد چیف منسٹر نے ایک ہی مقام پر تینوں مذاہب کے افراد کو تدفین اور آخری رسومات کے انتظامات کرنے کی عہدیداروں کو ہدایت دی تھی ۔ جس پر بین مذہبی قبرستان کا وجود عمل میں لایا گیا ہے ۔ یہاں پر ہر مذہب کے لیے علحدہ علحدہ جگہ مختص کی گئی ہے ۔ جہاں ان کے اپنے مذہبی رسم رواج کے لحاظ سے تدفین اور آخری رسومات انجام دی جاتی ہے ۔۔ ن