ماسکو : سعودی عرب کی ‘کنگڈم ہولڈنگ‘کمپنی کے مالک اور ارب پتی شہزادہ الولید بن طلال نے رواں سال فروری اور مارچ کے درمیان تین بڑی روسی انرجی کمپنیوں میں 50 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی۔ ریگولیٹری فائلنگز سے انکشاف ہوا ہے کہ روس کی کمپنیوں گیزپروم، روزنفٹ اور لوکوئیل میں سرمایہ کاری کی گئی کیونکہ سعودی عرب کی کنگڈم ہولڈنگ کمپنی ممکن ہے کم قیمت والے اثاثوں کی تلاش میں ہو گی اور شہزادہ الولید بن طلال کی جانب سے یہ قدم ایک ایسے موقع پر اٹھایا گیا ہے جب 24 فروری کو روس کے یوکرین پر حملے کے بعد کئی مغربی ممالک نے روسی توانائی کمپنیوں اور ان کے ذیلی اداروں پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔فروری میں کنگڈم ہولڈنگ نے بالترتیب ایک ارب 37 کروڑ ریال (تین کروڑ 65 لاکھ ڈالر) اور ایک ارب 96 کروڑ ریال (52 کروڑ ڈالر) مالیت کی گیزپروم اور روزنفٹ عالمی ڈپازٹری اداروں میں سرمایہ کاری کی۔کمپنی نے فروری اور مارچ کے درمیان لوکوئیل کی امریکی ڈپازٹری اداروں میں 41کروڑ ریال (10کروڑ 90 لاکھ ڈالر) کی سرمایہ کاری کی جبکہ شہزادہ الولید بن طلال نے مخصوص سرمایہ کاری کی کوئی وجہ نہیں بتائی۔اس کمپنی کی 16.9 فیصد ملکیت سعودی عرب کے سرکاری فنڈ کے پاس ہے جس کی سربراہی ولی عہد محمد بن سلمان کررہے ہیں لیکن کمپنی نے اپنی سرمایہ کاری کی تفصیلات ظاہر نہیں کی تھیں۔شہزادہ الولید بن طلال نے 1990 میں سٹی گروپ کارپوریشن پر کامیاب بولی لگانے کے بعد بین الاقوامی شہرت حاصل کی تھی جبکہ وہ ایپل کارپوریشن میں بھی ابتدائی سرمایہ کار تھے ۔شہزادہ نے اوبر ٹیکنالوجی انکارپوریشن سے ٹوئٹر انکارپوریشن جیسی کمپنیوں میں بھی سرمایہ کاری کرکے کروڑوں ڈالر کمائے ہیں۔