شیخ حسینہ کو جب تک وہ چاہیں ہندوستان میں رہنے کی اجازت دی جائے: منی شنکر ایئر

   

کولکاتا: سابق مرکزی وزیر اور کانگریس رہنما منی شنکر ایئر نے ہفتہ کی رات کہا کہ بنگلہ دیش کی معزول وزیر اعظم شیخ حسینہ کو جب تک وہ چاہیں ہندوستان میں رہنے کی اجازت دی جائے۔ائیر نے خوشی کا اظہار کیا کہ وکرم مسری نے گزشتہ ماہ ڈھاکہ کا دورہ کیا اور وہاں کے حکام سے بات چیت کی۔ انہوں نے 16ویں اے پی جے کولکتہ لٹریچر فیسٹیول کے موقع پر میڈیا کو بتایا کہ بات چیت مسلسل ہونی چاہیے اور ہندوستان کو بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے ساتھ وزارتی روابط قائم کرنے کی ضرورت ہے۔بنگلہ دیش نے حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے۔ مجھے خوشی ہیکہ انہیں سیاسی پناہ دی گئی مجھے لگتا ہے کہ جب تک وہ چاہیں ہمیں ان کا میزبان ہونا چاہیے، چاہے یہ ان کی پوری زندگی کے لیے ہی کیوں نہ ہو۔حسینہ (77) گزشتہ سال 5 اگست سے ہندوستان میں ہیں۔ طلباء کی قیادت میں بڑے پیمانے پر احتجاج کے بعد وہ ملک چھوڑ کر ہندوستان چلی آگئی تھیں ۔انہوں نے کہا کہ ہندوؤں پر حملوں کی اطلاعات درست ہیں لیکن مبالغہ آرائی ہے کیونکہ زیادہ تر تنازعات کا مقصد سیاسی اختلافات کو حل کرنا ہے۔اس سے قبل سوال و جواب کے اجلاس کے دوران ایر نے کہا تھا کہ پاکستانی بھی ہندوستانیوں کی طرح ہیں لیکن تقسیم کے سانحہ نے انہیں ایک الگ ملک بنا دیا۔وزیر اعظم مودی کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے، کانگریس لیڈر نے کہاکہ ہمارے پاس سرجیکل اسٹراینگ کرنے کی ہمت ہے، لیکن اس حکومت میں ان (پاکستان) کے ساتھ بات چیت کرنے کی ہمت نہیں ہے۔ائیر نے کہا کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو دہشت گردی کو پھیلاتا ہے لیکن وہ خود دہشت گردی کا شکار ہے۔
کانگریس کے رہنما نے کہاکہ پاکستان نے سوچا کہ وہ افغانستان میں طالبان کو اقتدار میں لا سکتے ہیں، لیکن آج ان کے لیے سب سے بڑا خطرہ افغانستان میں طالبان ہے۔