صارفین کو جھٹکہ۔ برقی شرحوں پر ماہانہ نظرِ ثانی

,

   

برقی پر عائد ہونے والا مالی بوجھ صارفین سے وصول کرنے کی تیاریاں۔ مرکزی محکمہ برقی نے قواعد میں ترمیم کی

حیدرآباد۔/4 جنوری، ( سیاست نیوز) مرکزی محکمہ برقی نے برقی کمیشن کو ایک نیا فارمولہ تیار کرنے کی ہدایت دی ہے تاکہ برقی کی پیداوار اور برقی کی خریداری کی قیمتوں میں استعمال ہونے والے ایندھن کے چارجس میں اضافہ ہونے پر اس کا مالی بوجھ ہر ماہ برقی صارفین پر خود بخود منتقل ہوجائے اس سلسلہ میں الیکٹریسٹی ریگولیشن 2005 میں ترمیم کرتے ہوئے نئے رہنمایانہ خطوط جاری کئے گئے ہیں۔ قواعد میں بتایا گیا ہے کہ برقی کمیشن 90 دنوں کے اندر ایک فارمولہ وضع کرے گا تاکہ ماہانہ بنیادوں پر برقی صارفین کے ٹیرف میں لوڈ خودبخود منتقل ہوسکے۔ ساتھ ہی یہ بھی وضع کردیا گیا ہے کہ ماہانہ حقیقی چارجس کا تعین سالانہ بنیادوں پر کیا جائے گا۔ الیکٹریسٹی کمیشن نے واضح کیا ہے کہ جب تک اس نئے فارمولہ کو حتمی شکل نہیں دی جاتی ان قواعد میں بیان کردہ طریقہ کار پر عمل نہیں کیا جائے گا۔ ایندھن اور برقی کی خریداری کے ایڈجسٹمنٹ سرچارج کو صارفین کو برقی فراہمی کی لاگت میں اضافہ کے طور پر سمجھا جانا چاہیئے۔ اس اضافی بوجھ کا حساب لگاکر اسے صارفین کے بلز میں شامل کیا جانا چاہیئے۔ اس کیلئے ریگولیٹری باڈی سے منظوری حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اسٹیٹ کمیشن کے تجویز کردہ فارمولہ کے مطابق ماہانہ بنیادوں پر خود بخود ہونا چاہیئے۔ اس سرچارج کا حساب ایندھن، برقی کی خریداری کے اخراجات اور بین ریاستی ٹرانسمیشن چارجس میں اصل ماہانہ فرق کی بنیادوں پر کیا جائے گا۔ مثال کے طور پر اپریل کے مہینہ میں فراہم کئے جانے والے برقی بل کے حوالہ سے اگر ایندھن اور برقی کی خریداری کی قیمت میں فرق ہے تو اس بوجھ کو جون کے مہینہ سے بل میں شامل کیا جائے۔ ڈسکام کو چاہیئے کہ وہ وقتاً فوقتاً ایندھن اور برقی کی خریداری کی لاگت کا حساب لگائے اور صارفین کو ٹیرف کے جھٹکے دیئے بغیر انہیں اگلے مہینوں کے بلز میں شامل کریں۔ کسی بھی صورت میں دو ماہ سے زیادہ کی تاخیر نہیں ہونی چاہیئے۔ کوئی بھی تنازعہ الیکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن کے سامنے اندرون 120 یوم حل کرلیا جائے۔ واضح وجوہات کی بناء پر اس حد کو مزید 30 دن تک بڑھایا جاسکتا ہے اگر کسی وجہ سے قطعی حکم جاری نہیں کیا جاسکتا تو ایسی صورت میں کمیشن تحریری طور پر اس کی وضاحت کرے گا اور مذکورہ وقت کی حد کے اندر عبوری حکم جاری کرے گا۔ اس کے علاوہ اندرون 150/120 میں قطعی حکم جاری نہ ہونے کی صورت میں متاثرہ فریق کو راحت کیلئے اپیلیٹ ٹریبونل سے رجوع ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ن