صرف تلگو میں ووٹر فارمس کی اشاعت سے غیر تلگو داں طبقہ الجھن کا شکار

   

گریٹر حیدرآباد میں اردو ، ہندی اور دوسری زبانوں کے لاکھوں عوام کا انتخابی مستقبل داؤ پر
تفصیلات کی فراہمی میں معمولی تضاد پر ووٹر میاپنگ سافٹ ویر ووٹر کا نام ’ مشتبہ ووٹر لسٹ ‘ میں ڈال دے گا
حیدرآباد ۔ 18 ۔ جون : ( سیاست نیوز) : تلنگانہ میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظر ثانی ( SIR ) پروگرام 2026 کے تحت رواں ماہ 25 جون سے گھر گھر Enumeration Forms کی تقسیم کا عمل شروع ہونے جارہا ہے لیکن فارمس کی زبان کو لے کر ایک انتہائی سنگین صورتحال پیدا ہوگئی ہے ۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے ان فارمس کو صرف اور صرف تلگو زباں میں شائع کرنے کے حکم نے گریٹر حیدرآباد کے لاکھوں ووٹرس میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے ۔ واضح رہے کہ تلنگانہ کی تقریبا 4.20 کروڑ جملہ آبادی میں سے ایک کروڑ سے زیادہ کی آبادی صرف گریٹر حیدرآباد میں بستی ہے ۔ اتنی بڑی آبادی پر مشتمل یہ شہر کثیر الثقافتی اور کاسموپولیٹن مرکز ہے ۔ جہاں ایک بڑی اکثریت اردو بولنے والوں پر مشتمل ہے جب کہ اس کے ساتھ ہی ہندی ، گجراتی ، راجستھانی ، مراٹھی ، بنگالی ، کنڑ اور تمل بولنے والے ہزاروں ووٹرس یہاں مقیم ہیں ۔ گریٹر حیدرآباد کی اس ایک کروڑ سے زائد آبادی میں ایسے لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے جو مقامی زبان تلگو پڑھنے لکھنے سے قاصر ہیں ۔ سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر صرف تلگو میں میٹریل تقسیم کرنے سے فارم کی خانہ پری میں غلطیوں کا اندیشہ ہے ۔ لہذا انگریزی میٹریل کی سپلائی لازمی ہونی چاہئے ۔ اس الجھن کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ Enumeration Forms میں ووٹر کا نام (Epic) نمبر ، سیرئیل نمبر اور پرانی تصویر پہلے سے موجود ہوگی ۔ لیکن ووٹر کو خود اپنے ہاتھ سے دیگر انتہائی اہم تفصیلات پر کرنی ہوگی ۔ ووٹر کا نام اور رشتہ دار کا نام ، رشتہ ، ضلع ، ریاست ، تاریخ پیدائش ، موبائل نمبر ، والد ؍ سرپرست ماں اور لائف پارٹنر (شریک حیات ) کے نام معہ ان کے (EPIC) نمبرس شامل ہیں ۔ اگر زبان نہ سمجھنے کی وجہ سے ووٹر نے فارم میں کوئی بھی معلومات غلط پر کردیں تو الیکشن کمیشن کا ووٹر میاپنگ سافٹ ویر فوری طور پر ان تضاد کا پتہ لگالے گا اور اس ووٹر کا نام مشتبہ ووٹرس کی فہرست میں ڈال دے گا ۔ تصدیق کے اس سخت عمل کے شیڈول کے مطابق 31 جولائی 2026 کو مسودہ ووٹر لسٹ شائع کی جائے گی ۔ غلط فارم بھرنے والوں کو مقامی الیکٹورل رجسٹریشن آفیسرس کی جانب سے نوٹسیں جاری کی جائیں گی ۔ 31 جولائی سے 28 ستمبر 2026 کے درمیان ان ووٹرس سے وضاحت طلب کی جائے گی ۔ انہیں سماعت میں حاضر ہونا پڑے گا اور ثبوت کے طور پر الیکشن کمیشن کی طرف سے تجویز کردہ 13 اقسام کے سرٹیفیکٹس پیش کرنے ہوں گے ۔ اگر اس طویل عمل میں کوئی بھی تضاد باقی رہ گیا تو یکم اکٹوبر 2026 کو شائع ہونے والی فائنل ووٹر لسٹ SIR 2026 سے ان کا نام ہمیشہ کے لیے خارج کردیا جائے گا ۔ لسانی رکاوٹ کے باعث ووٹ منسوخ ہونے کے اس سنگین خطرے پر سیاسی جماعتوں نے گہری تشویش کا اظہار کیا ۔ مجلس کے سربراہ رکن پارلیمنٹ حیدرآباد اسد الدین اویسی نے حال ہی میں ریاست کے چیف الکٹورل آفیسر سے ملاقات کرتے ہوئے حیدرآباد کے ووٹرس کے لیے تلگو کے ساتھ ساتھ انگریزی میں بھی فارم شائع کرنے کی درخواست کی تھی تاہم ایک ہفتہ گذر جانے کے باوجود سنٹرل الیکشن کمیشن کی جانب سے کوئی مثبت ردعمل حاصل نہیں ہوا ۔ جی ایچ ایم سی کے کمشنر نے 17 جون چہارشنبہ کو SIR کا سیاسی جماعتوں کے ساتھ ایک جائزہ اجلاس منعقد کیا ۔ تمام جماعتوں کے سیاسی نمائندوں نے کمشنر و ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر آر وی کرنن سے انگریزی فارمس فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ڈیٹا اضلاع کو بھیج دیا گیا ہے اور فی الحال پرنٹنگ صرف تلگو میں ہورہی ہے ۔ لیکن اگر الیکشن کمیشن سے فوری اجازت مل جاتی ہے تو وہ ضرورت کے مطابق انگریزی میں بھی فارم پرنٹ کر کے سپلائی کرنے کے لیے تیار ہیں ۔۔ 2/m/b