مرکزی ٹیم کا دورہ ،فصلوں کے علاوہ تباہ شدہ سڑکوں اور برج کا معائنہ
نظام آباد :حالیہ بارش سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے کیلئے آج مرکزی ٹیم نے نظام آباد کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا ۔ ضلع میں مسلسل ہوئی بارش کی وجہ سے جو نقصانات ہوئے تھے اس کا جائزہ لینے کیلئے مرکزی حکومت نے ریاست کو ٹیم روانہ کی ہے مرکزی وزیر داخلہ و جوائنٹ سکریٹری سرو رائے کی قیادت میں ڈی شیکھر ، کرشنا پرسادپر مشتمل سہ رکنی ٹیم نے آج بنیادی طور پر جائزہ لینے کیلئے ضلع کلکٹر نارائن ریڈی ، اڈیشنل کلکٹر چندر شیکھر ، کے ہمراہ تفصیلی طور پر جائزہ لیا ۔ ضلع کلکٹر نارائن ریڈی ، اڈیشنل کلکٹر چندر شیکھر نے انہیں تفصیلی طور پر واقف کروایا ۔ مرکزی ٹیم نے جکران پلی کے علاقہ میں پڑکل کے بڑا تالاب کا تفصیلی طور پر معائنہ کیا ۔ اس تالاب کے تحت 527 ایکر محیط اراضی پر کاشت کی جاتی ہے اور یہ ساری فصلیں پانی میں ڈوب گئی ہے ۔ تالاب کا کٹہ ٹوٹنے کی وجہ سے کیش پلی ، کورڈ پلی ، درپلی دیہاتوں کی آمد و رفت بھی متاثر ہوئی ہے ۔ مرکزی ٹیم نے مختلف علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے منوہر آباد ، کلی گوٹ کے درمیان پانی کی وجہ سے بہہ جانے والی سڑک کا اور پانی کی وجہ سے جمع ہونے والی ریت کے بارے میں بھی جائزہ لیا ۔ پانی کے بہائو کی وجہ سے کئی کھیتوں میں ریت جمع ہوئی ہے جس کی وجہ سے دھان ، مکئی ، سویا ، ہلدی کی فصلوں کو نقصان ہونے کا بھی جائزہ لیا ۔ آرمور منڈل کے پیپری کے پاس لیول کراس برج کا بھی معائنہ کیا ۔ ویلپور منڈل ، جانکم پیٹ کے درمیان سیلاب کے پانی سے نقصان ہونے والے چیک ڈیام ، موڑتاڑ منڈل کے دون پال کے پاس نقصان ہونے والی پنچایت روڈ، ڈونچن کے پاس فصلوں کے نقصانات کا بھی جائزہ لیا ۔ ضلع کلکٹر نارائن ریڈی متعلقہ محکمہ جات کے اعلیٰ عہدیداروں نے مرکزی ٹیم کو اس بارے میں نقصانات سے تفصیلی طور پر واقف کروایا ۔ مرکزی حکومت کی ٹیم نے رپورٹ حاصل کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو پیش کرنے کے ارادہ ظاہر کیا ۔ اس موقع پر ایس سی ٹرانسکو نارائنا کے علاوہ پنچایت راج ، ایریگیشن و دیگر محکمہ جات کے عہدیدار بھی موجود تھے۔