ضلع کھمم میں ٹی آر ایس قائد کا بے رحمانہ قتل

   

قاتلوں نے کرشنیا کے تن سے دونوں ہاتھوں کو جدا کر کے اپنے ساتھ لے گئے ، سارے علاقہ میں سنسنی
حیدرآباد ۔ 15 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : ضلع کھمم میں ٹی آر ایس قائد سابق وزیر ٹی ناگیشور راؤ کے کٹر حامی کرشنیا کا منظم سازش کے تحت تلواروں سے بے رحمانہ قتل کردیا ۔ اس حملہ میں کرشنیا موقع پر ہی ہلاک ہوگئے ۔ حملہ آوروں نے ان کے تن سے دونوں ہاتھوں کو جدا کرتے ہوئے اپنے ساتھ لے گئے ۔ اس بہیمانہ قتل کی واردات کے بعد سارے علاقہ میں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ۔ پولیس نے فوری اثر کے ساتھ سارے علاقہ میں 144 سیکشن نافذ کردیا ۔ 75 ویں آزادی جشن کے موقع پر کھمم رورل منڈل کے تیلاروپلی گاوں کے قریب ریتو ویدیکا کے پاس کرشنیا نے قومی پرچم لہرایا ۔ اس کے بعد وہ اپنے کار ڈرائیور کے ساتھ بائیک پر واپس ہورہے تھے گاوں کے قریب آٹو نے بائیک کو ٹکر دے دی حملہ آوروں نے چاقوں ، تلواروں اور کلہاڑی سے زمین پر نیچے گرجانے والے کرشنیا پر حملہ کردیا جس پر کرشنیا نے حملہ کے مقام پر ہی دم توڑ دیا ۔ حملہ آوروں نے کرشنیا کے تن سے اس کے دونوں ہاتھوں کو جدا کردیا اور انہیں اپنے ساتھ لے گئے ۔ اطلاع ملتے ہی پولیس حملہ کے مقام پر پہونچ گئی اور نعش کو پوسٹ مارٹم کے لیے کھمم کے سرکاری ہاسپٹل کو منتقل کردیا ۔ حملہ کا عینی شاہد کرشنیا کا کار ڈرائیور نے بتایا کہ حملہ آوروں میں چند لوگ کرشنیا کے جان پہچان کے لوگ تھے ۔ پولیس نے اس قتل کے سلسلہ میں 5 افراد کو اپنی تحویل میں لے لیا ۔ ٹی آر ایس قائد کرشنیا کے قتل کے بعد پولیس نے تیلاروپلی میں 144 سیکشن نافذ کردیا ۔ گاوں میں گروپس بنا کر گھومنے والوں کو پولیس نے انتباہ جاری کیا ہے ۔ سابق وزیر ٹی ناگیشور راؤ نے اپنے کٹر حامی کرشنیا کے بے رحمانہ قتل کی سخت مذمت کرتے ہوئے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کی ۔ انہوں نے کہا کہ چند لوگوں کے اس ناپاک عزائم ترقی میں رکاوٹ نہیں بن سکتے ۔ کرشنیا کی ترقی سے چند لوگ حسد کرتے تھے اور انہوں نے ہی کرشنیا کا قتل کیا ہے ۔ اس قتل کے واقعہ میں کسی کو معاف نہیں کیا جائے گا ۔۔ ن