طالبان کمانڈر کی شکایت کرنے والی خاتون گرفتار

   

کابل: افغانستان میں طالبان حکام نے سابق طالبان کمانڈر پرآبرو ریزی اور تشدد کی شکایت کرنے والی خاتون کو حراست میں لے لیا ہے۔اس کی گرفتاری اس وقت عمل میں لائی گئی جب خاتون نے تنگ آکر پاکستان فرار ہونے کی کوشش کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ خاتون کو پاکستان جانے کی کوشش کے دوران ایک چیک پوسٹ سے پکڑا گیا ہے۔ اسے واپس کابل منتقل کردیا گیا ہے جہاں اس کے خلاف طالبان کی نام نہاد عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا۔گذشتہ دو روز کے دوران افغانستان میں ایک خاتون کی ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آئی تھی جس میں اسے ایک سابق طالبان کمانڈر کے خلاف شکایت کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد طالبان کمانڈر کے خلاف سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، خاتون جس نے اپنے آپ کو صرف اپنے پہلے نام “الھا” سے ظاہر کیا ہے ویڈیو میں رو پڑی۔ اس نے طالبان کی وزارت داخلہ کے سابق ترجمان قاری سعید خوستی کی طرف سے مار پیٹ اور عصمت دری کیے جانے کو بیان کیا۔اس نے یہ بھی کہا کہ وہ دارالحکومت کابل کے ایک اپارٹمنٹ سے بات کر رہی تھی، جہاں اسے طالبان کے افراد نے اس وقت حراست میں لے لیا جب اس نے اپنی رہائی کی بھیک مانگتے ہوئے ملک سے فرار ہونے کی کوشش کی۔