طبی تعلیم کے حصول میں لڑکیاں آگے۔ پریکٹس میں پیچھے

   

معاشرہ میں رتبہ حاصل کرنے دولتمند طبقہ کی میڈیسن کی تعلیم میں دلچسپی۔ سماج میں نئے رجحان کا فروغ
محمد نعیم وجاہت
چند برسوں سے ایم بی بی ایس میں داخلہ حاصل کرنے والوں میں لڑکیوں کی اکثریت پائی جاتی ہے۔ پی جی میڈیکل تعلیم میں بھی لڑکیوں کا غلبہ ہے۔ تلنگانہ میں سال 2021 کے ایم بی بی ایس کنوینر کوٹہ میں 63.36 فیصد مینجمنٹ کوٹہ میں 55.76 فیصد جملہ 5095 نشستوں میں 60.79 فیصد لڑکیوں نے داخلہ لیا ہے۔ جاریہ سال یہ بڑھ کر 62.98 فیصد تک پہنچ گیا ۔ پی جی میڈیکل کی بھی یہی صورتحال ہے۔ سال 2022 کے پی جی داخلوں میں 1660 نشستوں کے منجملہ 1079 نشستوں پر (65 فیصد ) لڑکیوںنے داخلہ لیا ہے جبکہ لڑکوں کا تناسب صرف 35 فیصد ہے۔ملک بھر میں گذشتہ چار سال کے دوران نیٹ میں کوالیفائی ہونے والوں میں لڑکیوں کی اکثریت ہے۔ ہر سال طبی تعلیم کے داخلوں میں لڑکیوں کا تناسب بڑھ رہا ہے۔ تاہم طبی شعبہ میں پریکٹس و دیگر سرگرمیاں اتنی نہیں ہیں جتنی حصول تعلیم کے جذبہ میں پائی جارہی ہیں۔ خاندانی ذمہ داریاں، بچوں کی تعلیم، شریک حیات کی ترجیحات جیسے بہت سے عوام ہیں جو لیڈی ڈاکٹرس کے کیریئر پر اثر انداز ہورہے ہیں جس کے نتیجہ میں جہاں طبی تعلیم میں لڑکیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے وہیں پریکٹس میں گھٹ رہی ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ طبی شعبہ میں لڑکیوں کے آگے نہ بڑھنے کی تین چار بنیادی وجوہات ہیں۔ حالیہ دنوں میں شادی کے بعد بیرونی ممالک جانے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ جن لڑکیوں نے میڈیکل پی جی کیا ہے وہ نان کلنیکل فیلڈ(ٹیچنگ پروفیشن ) کی طرف جارہی ہیں۔ اسپیشلسٹ طبی تعلیم کی طرف لڑکیوں کا رجحان زیادہ ہے۔ میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے والی زیادہ تر لڑکیاں ڈاکٹرس سے شادی کررہی ہیں۔ شوہر اور بیوی دونوں ڈاکٹرس ہیں تو اگر شوہر کی پریکٹس اچھی ہے تو بیوی میڈیکل پیشہ چھوڑ رہی ہے، بچوں بہتر تعلیم و تربیت دینے زیادہ سے زیادہ وقت دے رہی ہیں۔ باقی لیڈی ڈاکٹرس اعلیٰ ملازمتوں اور این آر آئیز شادی کو ترجیح دے رہی ہیں اور اس طرح کئی لیڈی ڈاکٹرس بیرونی ممالک کو منتقل ہورہی ہیں۔ باقی لیڈی ڈاکٹرس کاروباری، تجارتی ذمہ داریاں، خاندان اور بچوں کی دیکھ بھال کررہی ہیں۔ طبی پیشہ چھوڑنے والوں میں بہت زیادہ دولتمند طبقہ بھی شامل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جو لوگ معاشرہ میں رتبہ و مقام ( اسٹیٹس ) حاصل کرنے کیلئے طبی تعلیم حاصل کررہے ہیں، بعد میں وہ طبی پیشہ سے اپنے آپ کو دور رکھ رہے ہیں۔ سماج میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں ۔ ضلع کھمم کی ایک لیڈی ڈاکٹر نے این آر آئی لڑکے سے شادی کی جس کے بعد وہ اپنے شوہر کے ساتھ امریکہ روانہ ہوگئی اور پیشہ طب چھوڑ دیا۔ حالیہ دنوں میں خاندانی ذمہ داریوں کی خاطر محنت سے پڑھی گئی میڈیکل تعلیم کو چھوڑ کر کئی لیڈی ڈاکٹرس نے دوسرے پروفیشن کا انتخاب کیا ہے۔ایسے کئی واقعات منظر عام پر آرہے ہیں۔ لڑکوں کی بہ نسبت لڑکیاںزیادہ پریکٹس نہیں کرپارہی ہیں۔ اس کی بھی کئی وجوہات ہیں۔ طبی تعلیم کے دوران لڑکیوں کی شادی، حمل اور اولاد کی پیدائش انہیں کچھ دنوں کیلئے پریکٹس سے دور رکھتی ہیں۔ اس کے علاوپوسٹ گریجویشن میڈیکل کی تعلیم کیلئے وہ پریکٹس سے دور رہتی ہیں ۔ لیڈی ڈاکٹرس کو اپنے کیریئر کو جاری رکھنے کیلئے افراد خاندان کا تعاون ضروری ہے۔ ضلع کھمم کی ایک لیڈی ڈاکٹر کی ایک حیدرآبادی ڈاکٹر سے شادی ہوئی جس کے بعد وہ حیدرآباد منتقل ہوگئی۔ گھر کی ذمہ داریاں، ساس کی صحت ناساز ہونے کی وجہ سے وہ ان کی خدمت تک محدود ہوگئی۔ نتیجہ میں پریکٹس سے محروم ہوگئی۔ نظام آباد کی ایک ڈینٹسٹ نے پی جی کی تعلیم بھی مکمل کی۔ ان کی اچھی پریکٹس بھی تھی مگر بچوں کی تعلیم کی خاطر اپنے پیشہ سے دور ہوگئی۔ ممتا میڈیکل کالج کھمم کے ڈاکٹر کشن راؤ نے بتایا کہ ان کے کالج میں ایم بی بی ایس کی 150 نشستیں ہیں جن میں 86 لڑکیاں ہیں۔ پی جی میں بھی نصف سے زیادہ لڑکیاں زیر تعلیم ہیں۔ پی جی کی چند برانچس میں لڑکیوں کا غلبہ ہے۔ ڈرمیٹالوجی برانچ میں 9 نشستیں ہیں تمام نشستوں پر لڑکیوں نے داخلہ حاصل کیا ہے۔ یہی صورتحال گائناکالوجی میں بھی ہے۔ ریڈیالوجی کی21 نشستوں میں 14 لڑکیاں ہیں۔ انیستیھسیا کی 24نشستوں میں 14 لڑکیاں ہیں۔ آرتھو میں بھی لڑکیوں کی اکثریت ہے لیکن طبی پیشہ میں لڑکیاں آگے نہیں بڑھ رہی ہیں۔ کم تنخواہوں کی وجہ سے طبی خدمات سے دور ہوکر نان کلینکل پروفیشن کی طرف راغب ہورہی ہیں۔ن