نئی دہلی، 28 اگست (یو این آئی) قومی انسانی حقوق کمیشن نے بہار کے کٹیہار میں ایک سرکاری اسکول ٹیچر کے ذریعے مبینہ طور پر کچھ بچوں کو ایک کمرے میں بند کرنے اور انہیں جسمانی سزا دینے کے معاملے کا از خود نوٹس لیا ہے اور ریاست کے چیف سکریٹری سے جواب طلب کیا ہے ۔ کمیشن نے جمعرات کو کہا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق 21 اگست کو کٹیہار ضلع کے ہفلا گنج علاقے کے ایک سرکاری اسکول میں تقریباً 18 طلباء کو ایک استاد نے سزا کے طور پر ایک کمرے میں بند کر دیا تھا۔ جب کچھ والدین کسی کام سے اسکول احاطے میں پہنچے تو انہیں اس معاملے کا علم ہوا۔ والدین کے ہنگامہ کرنے پر بچوں کو کمرے سے باہر نکالا گیا۔قومی انسانی حقوق کمیشن نے اس سزا کو طلبہ کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا سنگین مسئلہ بتایا اور اس کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے ریاست کے چیف سکریٹری اور کٹیہار کے پولیس سپرنٹنڈنٹ کو نوٹس جاری کر دیا ہے اور دو ہفتے کے اندر رپورٹ پیش کرنے کو کہا ہے۔ غور طلب ہے کہ 22 اگست کی خبر کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی کئی گاؤں والے اسکول میں جمع ہوگئے اور احتجاج شروع کردیا۔