طلبا اور جہد کار ہی نشانہ کیوں ؟

   

Ferty9 Clinic

مرکزی حکومت کی جانب سے گذشتہ چند برسوں میں جو کارروائیاں کی گئی ہیں ان سے ان شبہات کو تقویت ملتی ہے کہ حکومت طلبا اور جہد کاروں کو برداشت کرنے کو تیار نہیں ہے اور ان کی سرگرمیوںکو کسی بھی قیمت پر روکنا چاہتی ہے ۔ ان کے خلاف سخت ترین دفعات کے تحت مقدمات درج کرتے ہوئے انہیں جیل بھیجا جا رہا ہے ۔ کچھ انتہائی شدت پسند گروپس کی جانب سے بعض جہد کاروں کو تو موت کے گھاٹ بھی اتار دیا گیا ہے ۔ ان میں کچھ صحافی بھی شامل ہیں جو حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ ان میں جہد کار نریندر دھابولکر اور صحافی گوری لنکیش قابل ذکر ہیں۔ اسی طرح جامعہ ملیہ اسلامیہ اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طلبا کے خلاف بھی کئی مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ ان میں غداری کے مقدمات بھی شامل ہیں جن کے تحت طلبا کو جیل بھیجا گیا ۔ حالانکہ عدالتوں سے انہیں ضمانتیں مل چکی ہیں تاہم انہیں کئی مہینوں تک جیل میں رہنا پڑا اور ملک بھر میں ان کی شبیہہ کو جس طرح متاثر کیا گیا ہے وہ افسوسناک کہا جاسکتا ہے کیونکہ یہ لوگ بھی ہندوستانی ہیں اور ہندوستانی قانون کے تحت انہیں بھی دوسروں کے مساوی حقوق حاصل ہیں۔ گذشتہ سال دہلی میں پیش آئے بدترین فرقہ وارانہ فسادات میںبھی طلبا جہد کاروں کو گرفتار کیا گیا تھا جن میں نتاشا نروال ‘ دیوانگنا کالیتا اور آصف اقبال تنہا شامل تھے ۔ ایک سال تک یہ لوگ جیل میں قید رہے ۔ ان کے خلاف انسداد دہشت گردی سرگرمیاں قانون کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا ۔ انہیں دہلی ہائیکورٹ کی جانب سے ضمانت ملی ہے ۔ تاہم دہلی پولیس نے اس معاملہ میں غیر معمولی مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ضمانت کی منسوخی کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع ہوگئی ۔ سپریم کورٹ نے طلبا جہد کاروں کو جیل سے باہر ہی رکھنے کا مشورہ دیا اور مقدمہ کی سماعت سے اتفاق کرلیا ہے ۔ ملک کی عدالتیں جو فیصلے کر رہی ہیں وہ ملک کے ہر شہری کیلئے لفظ آخر ہیں۔ عدالتی فیصلوں کا بہرصورت احترام ہونا چاہئے ۔ یہاں سوال مرکزی حکومت اور دہلی پولیس کی کارروائی کا ہے کہ کس طرح سے طلبا اور جہد کاروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔
دہلی فسادات کے دوران ساری دنیا نے دیکھا کہ کس طرح حیوانیت کا ننگا ناچ کیا گیا ۔ بی جے پی کے لیڈر کپل مشرا پر فساد بھڑکانے اور فرقہ وارنہ منافرت کو ہواد ینے کا الزام ہے لیکن انہیں گرفتار تک نہیں کیا گیا اور نہ ان کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ۔ اسی طرح ایک خاتون کے ویڈیوز منظر عام پر آئے ہیں جو فسادات میں ہندووں کو بھڑکانے کا کام کر رہی تھیں۔ انہوں نے خود بھی بعض ویڈیوز سوشیل میڈیا پر جاری کرتے ہوئے ایسے کارناموں پر فخر کا اظہار بھی کیا ہے ۔ ان کے خلاف بھی دہلی پولیس کوئی کارروائی نہیں کر رہی ہے ۔ کئی ویڈیوز ایسے منظر عام پر آئے جن میںفسادات کو بھڑکاتے ہوئے کئی افراد کو دیکھا گیا تاہم وہ لوگ اب بھی دہلی پولیس کی کسی بھی کارروائی سے بچے ہوئے ہیں اور آزاد گھوم رہے ہیں۔ جن طلبا و جہد کاروں نے انصاف کیلئے آواز اٹھانے کی کوشش کی تھی اور خاطیوں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا تھا ان کے خلاف مقدمات درج کرتے ہوئے جیل بھیج دیا گیا ۔ جب انہیں ایک سال کے وقفہ کے بعد ہائیکورٹ سے ضمانت دی گئی ہے تو اس کو منسوخ کروانے کیلئے دہلی پولیس نے حد درجہ مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح سے طلبا اور جہد کاروں کی آواز کو دبانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ حکومت پر تنقیدیں کرنے والوں کو برداشت نہیں کیا جا رہا ہے بلکہ انہیں بزور طاقت یا مقدمات دبانے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔
ملک بھر میں جہاں کہیں فسادات ہوں وہاں قانون کو انتہائی سختی کے ساتھ کارروائی کرنی چاہئے اور خاطیوں کو کیفر کردار تک پہونچانا چاہئے ۔ تاہم اس میں انتہائی غیرجانبداری اور کسی دباو کے بغیر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ کسی کو نشانہ بنانے کی بجائے حقیقی خاطیوں کو گرفتار کرنا اور انہیں کیفر کردار تک پہونچانا چاہئے ۔ ہندوستان کی جو روایت رہی ہے وہاں مخالفانہ آوازوں کا احترام کیا جاتا رہا ہے ۔ انہیں دشمن کبھی نہیں سمجھا گیا ۔ اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے طلبا و جہد کاروں کو سماج کی بہتری کیلئے کام کرنے کا موقع دیا جانا چاہئے ۔ کسی مسئلہ پر اختلاف یا احتجاج دہشت گردی نہیں ہوسکتی ۔ قانونی و دستوری دائرہ میں رہتے ہوئے کسی مسئلہ پر احتجاج کرنا ہر ہندوستانی کا حق ہے اور اس کو ختم نہیں کیا جانا چاہئے ۔