دنیا کی ہر قوم ، ہر مذہب اور ہرمعاشرہ ظلم کو بُرا اور قابل مذمت عمل سمجھتا ہے، ظلم کا مطلب ہے کسی انسان یا مخلوق کے ساتھ نا انصافی ، زیادتی یا اُس کے حقوق کو غصب کرنا۔ ظالم بظاہر کچھ عرصہ طاقتور لگ سکتا ہے، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ظلم کا انجام ہمیشہ عبرتناک ہوتا ہے۔ قرآن پاک اور احادیث میں ظلم کی سختی سے مذمت کی گئی ہے، قرآن مجید میںارشاد فرمایا گیا: اور تم اللہ کو ظالموں کے کاموں سے غافل نہ سمجھو۔ حدیث شریف میں ارشاد فرمایا گیا: ظلم سے بچو کیونکہ ظلم قیامت کے دن تاریکیوں کا باعث ہوگا۔ حضرت سفیان ثوریؒ فرماتے ہیں جو شخص ظالم سے خندہ پیشانی کے ساتھ ملے ،یا مجلس میں اس کی عزت کرکے جگہ دے یا اُس کی دی ہوئی چیز کو قبول کرے تو اُس نے اسلام کی توہین کی،اور وہ ظالم کے مدد گاروں میں شامل ہوا۔ حضرت وہبؒ فرماتے ہیں جب بادشاہ ظلم کا قصد کرتا ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ اُس کی سلطنت میں خلل ڈالتے ہیں۔یہاں تک کہ پیداوار ، زراعت اور باغوں وغیرہ میں کمی آجاتی ہے۔ ظلم کے کئی اقسام بتائے گئے ہیں جن میں سے کچھ یہ ہیں (۱) ذاتی ظلم: کسی فرد پر ذاتی زیادتی یا حق تلفی (۲) سماجی ظلم: کسی طبقے یا قوم پر جبر، تفریق یا استحصال (۳) معاشی ظلم : سود ، دھوکہ دہی ، یا حرام ذرائع سے دولت کمانا (۴) سیاسی ظلم: جابرانہ حکومت، انسانی حقوق کی پامالی ۔
ظالموں کے عبرتناک انجام سے تاریخ بھری پڑی ہے ۔ فرعون جو اپنی طاقت اور خدائی دعوے پر غرور کرتا رہا اللہ نے اُسے سمندر میں غرق کردیا ۔ نمرود اللہ کے نبی سے لڑائی کیا،ایک مچھر کے ذریعے ہلاک ہوا۔ قارون مال و دولت پر غرور کیا، زمین میں دھنسادیا گیا۔ تاریخ کے صفحات میں ظالم حکمرانوں کی سلطنتیں مٹ چکی ہیں، جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ یزید کا نام تاریخ میں ظلم ،فسق و فجور ، اور جبر کی علامت بن گیا یزید کا انجام تاریخ اسلام میں عبرت کا مقام رکھتا ہے اگرچہ اس نے دنیاوی طور کچھ وقت اقتدار پایا لیکن ظلم و ستم خصوصاً شہادت ِ امامِ حسین ؓ کی وجہ سے وہ ذلت و بدنامی کا نشان بن گیا۔ مسلمان اِسے یاد کرتے ہیں تو ایک جابر و فاسق حکمران کے طور پر، جس کا انجام دنیا و آخرت دونوں میں عبرت ناک ہے۔